Sunday, 16 August 2020

عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے

عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے
مردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیخ فانی ہے
جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے
آدمی کو چپ رہنا، موت کی نشانی ہے
جو کہ تیرا عاشق ہے، اس کا اے گلِ رعنا
رنگ زعفرانی ہے،۔ اشک ارغوانی ہے
گُلرُخاں کا آب و رنگ دیکھنے سے میرے ہے
حسن کی گلستاں کی،۔ مجھ کو باغبانی ہے
دل سے کیوں نہیں چاہوں یار کو کہ اے تاباںؔ
دلربا ہے پیارا ہے، جیوڑا ہے، جانی ہے

عبدالحئ تاباں

No comments:

Post a Comment