عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے
مردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیخ فانی ہے
جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے
آدمی کو چپ رہنا، موت کی نشانی ہے
جو کہ تیرا عاشق ہے، اس کا اے گلِ رعنا
گُلرُخاں کا آب و رنگ دیکھنے سے میرے ہے
حسن کی گلستاں کی،۔ مجھ کو باغبانی ہے
دل سے کیوں نہیں چاہوں یار کو کہ اے تاباںؔ
دلربا ہے پیارا ہے، جیوڑا ہے، جانی ہے
عبدالحئ تاباں
No comments:
Post a Comment