ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں
اللہ رے، ظالم کی مظلوم نما آنکھیں
آفت میں پھنسائیں گی دیوانہ بنائیں گی
وہ غالیہ سا زلفیں وہ ہوش ربا آنکھیں
کیا جانیے کیا کرتا، کیا دیکھتا، کیا کہتا
زاہد کو بھی میری سی دیتا جو خدا آنکھیں
ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں
اللہ رے، ظالم کی مظلوم نما آنکھیں
آفت میں پھنسائیں گی دیوانہ بنائیں گی
وہ غالیہ سا زلفیں وہ ہوش ربا آنکھیں
کیا جانیے کیا کرتا، کیا دیکھتا، کیا کہتا
زاہد کو بھی میری سی دیتا جو خدا آنکھیں
گردشِ چشمِ یار نے مارا
دور لیل و نہار نے مارا
مر رہا ہوں مگر نہیں مرتا
خلشِ انتظار نے مارا
سخت جانی مِری جو سن پائی
دم نہ پھر تیغِ یار نے مارا
کبھی حیا انہیں آئی، کبھی غرور آیا
ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا
ہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے
جو کہتے ہیں کہ؛ تِرا دل کہیں ضرور آیا
جو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوۂ یار
جسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا
آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں
آگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیں
مِرے دل سے نکل کے دنیا میں
چین سے حسرتیں رہیں نہ کہیں
بے حجابی نگاہ الفت کی
دیکھے وہ شرمگیں کہیں نہ کہیں
کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا
کیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا
ان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں
مجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا
واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے
مے کدہ اب تو مے کدہ نہ رہا
اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے
اے شوقِ ہرزہ تاز! کہاں لے چلا مجھے
یہ دردِ دل ہی زیست کا باعث ہے چارہ گر
مر جاؤں گا جو آئی موافق دوا مجھے
اس ذوقِ ابتلا کا مزا اس کے دم سے ہے
سب کچھ ملا ملا ہو دل مبتلا مجھے