Showing posts with label بیخود بدایونی. Show all posts
Showing posts with label بیخود بدایونی. Show all posts

Sunday, 3 April 2022

ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں

 ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیں

اللہ رے، ظالم کی مظلوم نما آنکھیں

آفت میں پھنسائیں گی دیوانہ بنائیں گی

وہ غالیہ سا زلفیں وہ ہوش ربا آنکھیں

کیا جانیے کیا کرتا، کیا دیکھتا، کیا کہتا

زاہد کو بھی میری سی دیتا جو خدا آنکھیں

Sunday, 13 February 2022

گردش چشم یار نے مارا

 گردشِ چشمِ یار نے مارا

دور لیل و نہار نے مارا

مر رہا ہوں مگر نہیں مرتا

خلشِ انتظار نے مارا

سخت جانی مِری جو سن پائی

دم نہ پھر تیغِ یار نے مارا

Monday, 24 January 2022

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

 کبھی حیا انہیں آئی، کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

ہزار شکر وہ عاشق تو جانتے ہیں مجھے

جو کہتے ہیں کہ؛ تِرا دل کہیں ضرور آیا

جو با حواس تھا دیکھا اسی نے جلوۂ یار

جسے سرور نہ آیا اسے سرور آیا

Wednesday, 19 January 2022

آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں

 آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں

آگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیں

مِرے دل سے نکل کے دنیا میں

چین سے حسرتیں رہیں نہ کہیں

بے حجابی نگاہ الفت کی

دیکھے وہ شرمگیں کہیں نہ کہیں

Tuesday, 18 January 2022

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

 کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

کیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا

ان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں

مجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے

مے کدہ اب تو مے کدہ نہ رہا

Sunday, 16 January 2022

اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے

 اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے

اے شوقِ ہرزہ تاز! کہاں لے چلا مجھے

یہ دردِ دل ہی زیست کا باعث ہے چارہ گر

مر جاؤں گا جو آئی موافق دوا مجھے

اس ذوقِ ابتلا کا مزا اس کے دم سے ہے

سب کچھ ملا ملا ہو دل مبتلا مجھے