Wednesday, 14 October 2026

جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب ملے

 جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب مِلے

حقیقتوں کو ٹٹولا گیا تو خواب ملے

ہر ایک سمت سے آواز بازگشت آئی

اس آرزو میں پُکارا تھا کچھ جواب ملے

ہمیں بہار کے آثار کی توقع تھی

رُخِ چمن پہ نشاناتِ انقلاب ملے

کہانیوں کی کتابوں میں اب مِلیں تو مِلیں

وہ خوش نظر جنہیں ذرّوں میں آفتاب ملے


سعید الزماں عباسی

No comments:

Post a Comment