آگہی کا عذاب جھیلا ہے
ہم نے جی ہاں جناب جھیلا ہے
نظم لکھتی ہوں دل کی خوشبو سے
ان کا دیکھا جوخواب جھیلا ہے
زندگی کی تلاش میں ہم نے
جو ہے لکھا نصاب جھیلا ہے
آگہی کا عذاب جھیلا ہے
ہم نے جی ہاں جناب جھیلا ہے
نظم لکھتی ہوں دل کی خوشبو سے
ان کا دیکھا جوخواب جھیلا ہے
زندگی کی تلاش میں ہم نے
جو ہے لکھا نصاب جھیلا ہے
مجھے اپنا زمانے میں، بنا سکتے ہو، تو بولو
میرے درد و الم دل میں چُھپا سکتے ہو، تو بولو
وفا، چاہت، محبت اب نہیں ملتی زمانے میں
مجھے ہے بس، طلب ان کی جو لا سکتے ہو تو بولو
پہن کر لال جوڑا میں، تیری راہوں میں بیٹھی ہوں
میرے ماتھے پہ جُھومر اب سجا سکتے ہو تو بولو
بچھڑتے لمحے وہ مجھ سے کہہ رہا تھا
میری دعا ہے کہ تم عمرِ خضر پاؤ
اسے تو یہ خبر ہی نہیں کہ
اسی اک لمحے میں، میں مر گئی تھی
جب اس سے میں بچھڑ رہی تھی
رفعت انجم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ نام لکھتی ہوں فضائیں جُھوم جاتی ہیں
پکاروں اپنے آقاﷺ کو صدائیں جھوم جاتی ہیں
میرے مدنی کی آمد پہ میں جب میلاد کرتی ہوں
صدا میلادﷺ کی سن کر صبائیں جھوم جاتی ہیں
میں جب صل علی پڑھ کر دعائيں رب سے کرتی ہوں
ندائیں رقص کرتی ہیں، دعائيں جھوم جاتی ہیں
ٹپہ/ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے
وقت کے کٹہرے میں
کب سے ہوں کھڑی تنہا
سازشوں کے پہرے میں
رفعت انجم