Showing posts with label رفعت انجم. Show all posts
Showing posts with label رفعت انجم. Show all posts

Sunday, 31 March 2024

آگہی کا عذاب جھیلا ہے

 آگہی کا عذاب جھیلا ہے

ہم نے جی ہاں جناب جھیلا ہے

نظم لکھتی ہوں دل کی خوشبو سے

ان کا دیکھا جوخواب جھیلا ہے

زندگی کی تلاش میں ہم نے

جو ہے  لکھا نصاب جھیلا ہے

Friday, 24 November 2023

مجھے اپنا زمانے میں بنا سکتے ہو تو بولو

 مجھے اپنا زمانے میں، بنا سکتے ہو، تو بولو

میرے درد و الم دل میں چُھپا سکتے ہو، تو بولو

وفا، چاہت، محبت اب نہیں ملتی زمانے میں

مجھے ہے بس، طلب ان کی جو لا سکتے ہو تو بولو

پہن کر لال جوڑا میں، تیری راہوں میں بیٹھی ہوں

میرے ماتھے پہ جُھومر اب سجا سکتے ہو تو بولو

Thursday, 16 November 2023

بچھڑتے لمحے وہ مجھ سے کہہ رہا تھا

 بچھڑتے لمحے وہ مجھ سے کہہ رہا تھا

میری دعا ہے کہ تم عمرِ خضر پاؤ

اسے تو یہ خبر ہی نہیں کہ

اسی اک لمحے میں، میں مر گئی تھی

جب اس سے میں بچھڑ رہی تھی


رفعت انجم

Wednesday, 15 November 2023

محمد نام لکھتی ہوں فضائیں جھوم جاتی ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمدﷺ نام لکھتی ہوں فضائیں جُھوم جاتی ہیں

پکاروں اپنے آقاﷺ کو صدائیں جھوم جاتی ہیں

میرے مدنی کی آمد پہ میں جب میلاد کرتی ہوں

صدا میلادﷺ کی سن کر صبائیں جھوم جاتی ہیں

میں جب صل علی پڑھ کر دعائيں رب سے کرتی ہوں

ندائیں رقص کرتی ہیں، دعائيں جھوم جاتی ہیں

Tuesday, 14 November 2023

وقت کے کٹہرے میں کب سے ہوں کھڑی تنہا

 ٹپہ/ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے


وقت کے کٹہرے میں

کب سے ہوں کھڑی تنہا 

سازشوں کے پہرے میں


رفعت انجم