Showing posts with label کمال احمد صدیقی. Show all posts
Showing posts with label کمال احمد صدیقی. Show all posts

Sunday, 2 January 2022

شراب خانہ ترا ایسا انتخاب نہیں ہے

 شراب خانہ تِرا ایسا انتخاب نہیں ہے

خواص پیتے ہیں سب کے لیے شراب نہیں ہے

شکار ظلم کا جو ہیں انہیں پہ ہے ہر شدت

وہ جو ہیں ظالم ان پر کوئی عتاب نہیں ہے

یہ تیرا فرض ہے ساقی ملے سبھی کو برابر

ہے تیرا منصب ساقی کوئی خطاب نہیں ہے

Sunday, 5 December 2021

یہ ذکر آئنے سے صبح و شام کس کا ہے

یہ ذکر آئینے سے صبح و شام کس کا ہے

جو گنگناتے ہو ہر دم کلام کس کا ہے

بھرے ہوئے ہیں سبھی صرف ایک خالی ہے

اگر یہ میرا نہیں ہے تو جام کس کا ہے

جو اہلِ ظرف ہیں پیاسے وہی ہیں محفل میں

یہ دور کس کا ہے؟ یہ انتظام کس کا ہے

Saturday, 4 December 2021

میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے

 میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے

کوچۂ یار میں لیکن یہ قدم ہوتا ہے

پُرسش حال بھی اتنی کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں

اس تکلف سے کرم ہو تو ستم ہوتا ہے

شیخ مے خانہ میں کرتا ہے ارم کی باتیں

اسی مے خانہ کا اک گوشہ ارم ہوتا ہے

Wednesday, 22 September 2021

دل میں جو بات کھٹکتی ہے دہن تک پہنچے

 دل میں جو بات کھٹکتی ہے دہن تک پہنچے

خامشی مرحلۂ عرضِ سخن تک پہنچے

محرمِ حسنِ بہاراں تو نہیں ہو سکتی

وہ نظر صرف جو گلہائے چمن تک پہنچے

زندگی نام اسی موجِ مئے ناب کا ہے

میکدے سے جو اٹھے دار و رسن تک پہنچے

Wednesday, 25 August 2021

باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں

 باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں

ان میں سے ایک بھی تو نہیں ہے کتاب میں

محرومیوں نے بزم سجائی ہے خواب میں

سب کے الگ الگ ہیں مناظر سراب میں

پانی کی طرح اہلِ ہوس نے شراب پی

لکھی گئی ہے تشنہ لبوں کے حساب میں