شراب خانہ تِرا ایسا انتخاب نہیں ہے
خواص پیتے ہیں سب کے لیے شراب نہیں ہے
شکار ظلم کا جو ہیں انہیں پہ ہے ہر شدت
وہ جو ہیں ظالم ان پر کوئی عتاب نہیں ہے
یہ تیرا فرض ہے ساقی ملے سبھی کو برابر
ہے تیرا منصب ساقی کوئی خطاب نہیں ہے
شراب خانہ تِرا ایسا انتخاب نہیں ہے
خواص پیتے ہیں سب کے لیے شراب نہیں ہے
شکار ظلم کا جو ہیں انہیں پہ ہے ہر شدت
وہ جو ہیں ظالم ان پر کوئی عتاب نہیں ہے
یہ تیرا فرض ہے ساقی ملے سبھی کو برابر
ہے تیرا منصب ساقی کوئی خطاب نہیں ہے
یہ ذکر آئینے سے صبح و شام کس کا ہے
جو گنگناتے ہو ہر دم کلام کس کا ہے
بھرے ہوئے ہیں سبھی صرف ایک خالی ہے
اگر یہ میرا نہیں ہے تو جام کس کا ہے
جو اہلِ ظرف ہیں پیاسے وہی ہیں محفل میں
یہ دور کس کا ہے؟ یہ انتظام کس کا ہے
میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے
کوچۂ یار میں لیکن یہ قدم ہوتا ہے
پُرسش حال بھی اتنی کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں
اس تکلف سے کرم ہو تو ستم ہوتا ہے
شیخ مے خانہ میں کرتا ہے ارم کی باتیں
اسی مے خانہ کا اک گوشہ ارم ہوتا ہے
دل میں جو بات کھٹکتی ہے دہن تک پہنچے
خامشی مرحلۂ عرضِ سخن تک پہنچے
محرمِ حسنِ بہاراں تو نہیں ہو سکتی
وہ نظر صرف جو گلہائے چمن تک پہنچے
زندگی نام اسی موجِ مئے ناب کا ہے
میکدے سے جو اٹھے دار و رسن تک پہنچے
باتیں جو تھیں درست پرانے نصاب میں
ان میں سے ایک بھی تو نہیں ہے کتاب میں
محرومیوں نے بزم سجائی ہے خواب میں
سب کے الگ الگ ہیں مناظر سراب میں
پانی کی طرح اہلِ ہوس نے شراب پی
لکھی گئی ہے تشنہ لبوں کے حساب میں