Sunday, 2 January 2022

شراب خانہ ترا ایسا انتخاب نہیں ہے

 شراب خانہ تِرا ایسا انتخاب نہیں ہے

خواص پیتے ہیں سب کے لیے شراب نہیں ہے

شکار ظلم کا جو ہیں انہیں پہ ہے ہر شدت

وہ جو ہیں ظالم ان پر کوئی عتاب نہیں ہے

یہ تیرا فرض ہے ساقی ملے سبھی کو برابر

ہے تیرا منصب ساقی کوئی خطاب نہیں ہے

یہاں تو کوئی نہیں آدمی سبھی ہیں فرشتے

مِرے علاوہ یہاں پر کوئی بھی خراب نہیں ہے

فروغ کیفیت بادہ سے ہوا ہے یہ شاداب

نہ پڑھ یہ چہرہ مِرا یہ کوئی کتاب نہیں ہے

سراب واہمہ نظروں کے سامنے موجود

دھڑک رہا ہے جو ادراک میں سراب نہیں ہے


کمال احمد صدیقی

No comments:

Post a Comment