Sunday, 2 January 2022

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا

 جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا

ہر منظرِ شب خواب کی دیوار لگے گا

پل بھر میں بکھر جائیں گے یادوں کے ذخیرے

جب ذہن پہ اک سنگِ گراں بار لگے گا

گوندھے ہیں نئی شب نے ستاروں کے نئے ہار

کب گھر مِرا آئینۂ انوار لگے گا

گر سیل خرافات میں بہہ جائیں یہ آنکھیں

ہر حرف یقیں کلمۂ انکار لگے گا

حالات نہ بدلے تو تمنا کی زمیں پر

ٹوٹی ہوئی امیدوں کا انبار لگے گا

کھلتے رہے گر پھول لہو میں یوں ہی اکبر

ہر فصل میں دل اپنا سمن زار لگے گا


اکبر حیدرآبادی

No comments:

Post a Comment