ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہے
سوچوں گا کہاں تم سے ملاقات ہوئی ہے
تقدیسِِ محبت پہ کہیں حرف نہ آئے
تسکینِ ہوس شاملِ جذبات ہوئی ہے
یہ روشنی شائستہ اجالوں کا ہے دھوکہ
اے دوست ابھی ختم کہاں رات ہوئی ہے
ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہے
سوچوں گا کہاں تم سے ملاقات ہوئی ہے
تقدیسِِ محبت پہ کہیں حرف نہ آئے
تسکینِ ہوس شاملِ جذبات ہوئی ہے
یہ روشنی شائستہ اجالوں کا ہے دھوکہ
اے دوست ابھی ختم کہاں رات ہوئی ہے
غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح
ملے ہیں اشک بھی ہم کو یہاں ہنسی کی طرح
کرم کی زحمت بے جا کا شکریہ، لیکن
تمہارے درد کو چاہا ہے زندگی کی طرح
میں اپنا درد لیے اب کہاں کہاں جاؤں؟
مجھے رفیق بھی ملتے ہیں اجنبی کی طرح
کہیں شرمندہ نہ ہو رسمِ وفا میرے بعد
میرے ماضی کو نہ دو میری سزا میرے بعد
ایسا لگتا ہے کہ سب خون کے پیاسے ہیں یہاں
ہائے، اس شہر کا کیا حال ہوا میرے بعد
تشنہ لب اور بھی آئیں گے یہاں میری طرح
کون دے گا انہیں جینے کی دعا میرے بعد
شہرِ غزل میں بِکنے کو تیار کون ہے
یوسف نہیں تو زینتِ بازار کون ہے
سب کے لبوں پہ نعرۂ منصور ہے مگر
یہ دیکھنا ہے آج سرِ دار کون ہے
اپنا ضمیر جھُوٹ کبھی بولتا نہیں
تم ہی کہو کہ صاحبِ کردار کون ہے
لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیں
کوئی جی بھر کے رُلاتا ہے تو رو لیتے ہیں
چاندنی رات کی مہکی ہوئی تنہائی میں
ساز غم پر کوئی گاتا ہے تو رو لیتے ہیں
نُور و نکہت کی فضاؤں کا دلآویز سماں
دل میں جب آگ لگاتا ہے تو رو لیتے ہیں
سازِ فُرقت پہ غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے
پیار کی رسم کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
جب یہ طے ہے کہ غمِ عشق بہت کافی ہے
غم کا مفہوم ہی سمجھاؤ کہ کچھ رات کٹے
صبح کے ساتھ ہی ہم خود بھی بکھر جائیں گے
دو گھڑی اور ٹھہر جاؤ کہ کچھ رات کٹے
ہم کو دشمن کی نگاہوں سے نہ دیکھا کیجیے
پیار ہی پیار ہیں ہم، ہم پہ بھروسا کیجیے
چند یادوں کے سوا ہاتھ نہ کچھ آئے گا
اس طرح عمرِ گریزاں کا نہ پیچھا کیجیے
روشنی اوروں کے آنگن میں گوارا نہ سہی
کم سے کم اپنے ہی گھر میں تو اجالا کیجیے
زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو
روشنی کے دیوانو! روشنی سے مت کھیلو
اے بُتان بے پرواہ! کچھ خدا نہیں ہو تم
پیار کی خدائی میں بندگی سے مت کھیلو
آپ ہی نے کر ڈالا زندگی سے بے گانہ
آپ ہی تو کہتے تھے زندگی سے مت کھیلو