Showing posts with label رئیس اختر. Show all posts
Showing posts with label رئیس اختر. Show all posts

Monday, 23 August 2021

ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہے

 ان آنکھوں سے پہلے بھی کہیں بات ہوئی ہے

سوچوں گا کہاں تم سے ملاقات ہوئی ہے

تقدیسِِ محبت پہ کہیں حرف نہ آئے

تسکینِ ہوس شاملِ جذبات ہوئی ہے

یہ روشنی شائستہ اجالوں کا ہے دھوکہ

اے دوست ابھی ختم کہاں رات ہوئی ہے

Thursday, 25 March 2021

غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح

 غموں سے رشتہ ہے اپنا بھی دوستی کی طرح

ملے ہیں اشک بھی ہم کو یہاں ہنسی کی طرح

کرم کی زحمت بے جا کا شکریہ، لیکن

تمہارے درد کو چاہا ہے زندگی کی طرح

میں اپنا درد لیے اب کہاں کہاں جاؤں؟

مجھے رفیق بھی ملتے ہیں اجنبی کی طرح

Monday, 22 March 2021

کہیں شرمندہ نہ ہو رسم وفا میرے بعد

 کہیں شرمندہ نہ ہو رسمِ وفا میرے بعد

میرے ماضی کو نہ دو میری سزا میرے بعد

ایسا لگتا ہے کہ سب خون کے پیاسے ہیں یہاں

ہائے، اس شہر کا کیا حال ہوا میرے بعد

تشنہ لب اور بھی آئیں گے یہاں میری طرح

کون دے گا انہیں جینے کی دعا میرے بعد

Saturday, 20 March 2021

شہر غزل میں بکنے کو تیار کون ہے

 شہرِ غزل میں بِکنے کو تیار کون ہے 

یوسف نہیں تو زینتِ بازار کون ہے 

سب کے لبوں پہ نعرۂ منصور ہے مگر 

یہ دیکھنا ہے آج سرِ دار کون ہے 

اپنا ضمیر جھُوٹ کبھی بولتا نہیں 

تم ہی کہو کہ صاحبِ کردار کون ہے

Friday, 19 March 2021

لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیں

 لب پہ اک نام جب آتا ہے تو رو لیتے ہیں 

کوئی جی بھر کے رُلاتا ہے تو رو لیتے ہیں 

چاندنی رات کی مہکی ہوئی تنہائی میں 

ساز غم پر کوئی گاتا ہے تو رو لیتے ہیں 

نُور و نکہت کی فضاؤں کا دلآویز سماں 

دل میں جب آگ لگاتا ہے تو رو لیتے ہیں

ساز فرقت پہ غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے

 سازِ فُرقت پہ غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے 

پیار کی رسم کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے 

جب یہ طے ہے کہ غمِ عشق بہت کافی ہے 

غم کا مفہوم ہی سمجھاؤ کہ کچھ رات کٹے

صبح کے ساتھ ہی ہم خود بھی بکھر جائیں گے 

دو گھڑی اور ٹھہر جاؤ کہ کچھ رات کٹے

Thursday, 18 March 2021

ہم کو دشمن کی نگاہوں سے نہ دیکھا کیجیے

 ہم کو دشمن کی نگاہوں سے نہ دیکھا کیجیے

پیار ہی پیار ہیں ہم، ہم پہ بھروسا کیجیے

چند یادوں کے سوا ہاتھ نہ کچھ آئے گا

اس طرح عمرِ گریزاں کا نہ پیچھا کیجیے

روشنی اوروں کے آنگن میں گوارا نہ سہی

کم سے کم اپنے ہی گھر میں تو اجالا کیجیے

زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو

 زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو

روشنی کے دیوانو! روشنی سے مت کھیلو

اے بُتان بے پرواہ! کچھ خدا نہیں ہو تم

پیار کی خدائی میں بندگی سے مت کھیلو

آپ ہی نے کر ڈالا زندگی سے بے گانہ

آپ ہی تو کہتے تھے زندگی سے مت کھیلو