Thursday, 18 March 2021

زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو

 زندگی کی چاہت میں زندگی سے مت کھیلو

روشنی کے دیوانو! روشنی سے مت کھیلو

اے بُتان بے پرواہ! کچھ خدا نہیں ہو تم

پیار کی خدائی میں بندگی سے مت کھیلو

آپ ہی نے کر ڈالا زندگی سے بے گانہ

آپ ہی تو کہتے تھے زندگی سے مت کھیلو

پیار دل کا سودا ہے، عقل دل کی بیماری

دوستی کے پردے میں دوستی سے مت کھیلو

روشنی کی خواہش میں جل اٹھے نہ پیراہن

روشنی میں شعلے ہیں روشنی سے مت کھیلو

تم سے کچھ نہیں مطلب ہاں مگر خرد مندو

ہم جنوں پرستوں کی آگہی سے مت کھیلو

نغمۂ تمنا سے خونِ دل ٹپکتا ہے

عشرتوں کے متوالو! شاعری سے مت کھیلو

مہر و ماہ رہتے ہیں تیرگی کے سینے میں

بھول کر رئیس اختر تیرگی سے مت کھیلو 


رئیس اختر

No comments:

Post a Comment