ادا میں رنگ تبسم وہ بھر کے دیکھتے ہیں
انہیں مریض سبھی دل جگر کے دیکھتے ہیں
یہ وسوسے، یہ کشاکش، یہ شورشیں یہ جنون
کمال سارے اسی اک نظر کے دیکھتے ہیں
وہ ان کے جلوے سحرگیں، ادائیں بیش نظر
سو ظرف چشم میں امکان بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ان کا تبسم ہے برق ریز بہت
سو ان کو سوختہ جاں لوگ ڈر کے دیکھتے ہیں
بپا کیے ہیں یہ کس نے زمیں پہ ہنگامے
فلک سے اس کو فرشتے اتر کے دیکھتے ہیں
یہ ان کی دید کے آداب کے تقاضے ہیں
جو ان کو دیکھیں وہی بن سنور کے دیکھتے ہیں
خوشی یہ ان کی اگر دیکھتے ہیں آئینہ
ہم ان کو واسطے کیوں درد سر کے دیکھتے ہیں
خبر ہے گرم جو اس گھر میں ان کے آنے کی
نگار و نقش بھی ہم اپنے گھر کے دیکھتے ہیں
نہ استعارہ نہ تشبیہ کوئی ان جیسا
سو ان کو زیبِ غزل آج کر کے دیکھتے ہیں
وہ دل نواز درِ نیم وا سے ان کی نظر
اسی گلی سے چلو پھر گزر کے دیکھتے ہیں
جواب دیں کہ نہ دیں اپنا کام وہ جانیں
چلو سلام ہی اب ان کو کر کے دیکھتے ہیں
نزول ان کا، گھڑی ارتحال کی مولا
ذرا سی ڈھیل کہ ہم کچھ ٹھہر کے دیکھتے ہیں
امین راحت چغتائی
No comments:
Post a Comment