اداسی تیرگی ہوتی تو شاید
اک دِیا آباد کرنے سے ہی چھٹ جاتی
مگر ایسا نہیں ہے
اداسی راستہ ہوتی
تو اس کو اپنے پیروں سے گنا کرتے
کہیں تو جا کے گنتی ختم ہو جاتی
مگر ایسا نہیں ہے
اداسی پیڑ ہوتی تو
ہم اس کے سارے بازو کاٹ کے معذور کر دیتے
زمیں سے اس کا سایہ دور کر دیتے
مگر ایسا نہیں ہے
اداسی سال ہی ہوتی
تو ہم خود کو یہ سمجھاتے
کہ دیکھو تین سو پینسٹھ دنوں کی بات ہے ساری
اداسی پھر نہیں ہو گی
مگر ایسا نہیں ہے
اداسی دائرہ ہوتی
تو ہم اس سے کسی تسنیخ کے خط کی طرح باہر نکل جاتے
کوئی تو ایسا لمحہ مل ہی جاتا
ہم سنبھل جاتے
مگر ایسا نہیں ہے
اداسی تو اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
یہاں جتنی بھی بارش ہو
یہ مٹی نم نہیں ہوتی
اداسی کم نہیں ہوتی
علی معین
No comments:
Post a Comment