ٹوٹے ہیں ایسے خواب ہمارے زمین پر
گِرتے ہوں آسماں سے تارے زمین پر
ملتی ہے عاشقی کی سند اس جہان میں
بس خوار ہوئے عشق کے مارے زمین پر
آئے ہیں ایسے زلزلے کیا عرش پر کبھی؟
مرتے ہیں جن پہ لوگ بے چارے زمین پر
بھیجے گا اب وہاں سے وہی چارہ گر میرا
جس نے وہاں سے درد اُتارے زمین پر
کہتے ہیں عرش والے سے رشتہ بنا رہے
چھُوٹے ہیں جبکہ سارے سہارے زمین پر
مجھ کو دہؔر خوشی نہ میسر رہی کبھی
ملتے ہیں کب فلک کے کنارے زمین پر
دہر کاظمی
No comments:
Post a Comment