Showing posts with label یوسف راسخ. Show all posts
Showing posts with label یوسف راسخ. Show all posts

Friday, 6 June 2025

جانب عرش وہ محبوب خدا کا نکلا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جانب عرش وہ محبوب خدا کا نکلا

اب تو ارمان تِرا عرشِ معلا نکلا

عرش والے شبِ معراج بچھے جاتے ہیں

جب سرِ عرش وہ اللہ کا پیارا نکلا

منہ ہی تکتے رہے افلاک کے رہنے والے

واہ کس شان سے محبوب ہمارا نکلا

Saturday, 31 May 2025

حشر میں کام نہ کوئی بھی میری جان آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حشر میں کام نہ کوئی بھی میری جان آیا

میری بگڑی کو بنانے تِراﷺ احسان آیا

دیکھ کر شان تِریؐ اہلِ فلک تھے حیران

مرحبا صلِ علیٰﷺ عرش کا مہمان آیا

بن گیا عرشِ معلیٰ دلِ ویراں میرا

تِرا ارمان مِرے دل میں جو مہمان آیا

Friday, 30 May 2025

رنج پر رنج مصیبت سی مصیبت دیکھی

 رنج پر رنج مصیبت سی مصیبت دیکھی

ہجر مولا میں یہ آرام کی صورت دیکھی

محو دیدار رہے حشر میں عاشق تیرے

آنکھ اٹھا کر نہ کبھی خلد کی صورت دیکھی

لے لیا وعدۂ بخشش بھی دہائی کر کے

شافع حشر کی امت سے محبت دیکھی

Friday, 25 June 2021

دل نالاں تری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں

دلِ نالاں! تِری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں

بیقراری جو ادھر ہے وہ ادھر ہے کہ نہیں

شعلۂ عشق جگر تک تو بھڑک اٹھا ہے

کچھ خبر بھی تجھے اے دیدۂ تر ہے کہ نہیں

ہم بتائیں تمہیں اس شوخ کے پردہ کا سبب

دیکھنا یہ ہے تمہیں تاب نظر ہے کہ نہیں