عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جانب عرش وہ محبوب خدا کا نکلا
اب تو ارمان تِرا عرشِ معلا نکلا
عرش والے شبِ معراج بچھے جاتے ہیں
جب سرِ عرش وہ اللہ کا پیارا نکلا
منہ ہی تکتے رہے افلاک کے رہنے والے
واہ کس شان سے محبوب ہمارا نکلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جانب عرش وہ محبوب خدا کا نکلا
اب تو ارمان تِرا عرشِ معلا نکلا
عرش والے شبِ معراج بچھے جاتے ہیں
جب سرِ عرش وہ اللہ کا پیارا نکلا
منہ ہی تکتے رہے افلاک کے رہنے والے
واہ کس شان سے محبوب ہمارا نکلا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حشر میں کام نہ کوئی بھی میری جان آیا
میری بگڑی کو بنانے تِراﷺ احسان آیا
دیکھ کر شان تِریؐ اہلِ فلک تھے حیران
مرحبا صلِ علیٰﷺ عرش کا مہمان آیا
بن گیا عرشِ معلیٰ دلِ ویراں میرا
تِرا ارمان مِرے دل میں جو مہمان آیا
رنج پر رنج مصیبت سی مصیبت دیکھی
ہجر مولا میں یہ آرام کی صورت دیکھی
محو دیدار رہے حشر میں عاشق تیرے
آنکھ اٹھا کر نہ کبھی خلد کی صورت دیکھی
لے لیا وعدۂ بخشش بھی دہائی کر کے
شافع حشر کی امت سے محبت دیکھی
دلِ نالاں! تِری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں
بیقراری جو ادھر ہے وہ ادھر ہے کہ نہیں
شعلۂ عشق جگر تک تو بھڑک اٹھا ہے
کچھ خبر بھی تجھے اے دیدۂ تر ہے کہ نہیں
ہم بتائیں تمہیں اس شوخ کے پردہ کا سبب
دیکھنا یہ ہے تمہیں تاب نظر ہے کہ نہیں