وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے
جفا کرے تو کرے ہاں کوئی دغا نہ کرے
وہ پھر حسیں ہی نہیں جو کبھی جفا نہ کرے
وہ اہلِ دل نہیں جو عمر بھر وفا نہ کرے
خدا کسی کو کسی سے کبھی جدا نہ کرے
بچھڑ کے تجھ سے میں پل بھر جیوں خدا نہ کرے
میں چوم لوں گا اسے پردۂ تمنا میں
مِرے خیال کے مانند وہ سجا نہ کرے
تھکا ہوا ہوں بکھر جاؤں گا کہو اس سے
بہت دراز شبِ غم کا سلسلا نہ کرے
ذرا یہ دیکھو کہ ہم کس پہ جان دیتے ہیں
کبھی قریب نہ آئے جو سو بہانہ کرے
ہے راہ عشق میں خالد کو جان کا خطرہ
کہو کہ کر لے محبت فقط کہا نہ کرے
محمد خالد فتحپوری
No comments:
Post a Comment