Wednesday, 10 June 2026

وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے

 وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے

جفا کرے تو کرے ہاں کوئی دغا نہ کرے

وہ پھر حسیں ہی نہیں جو کبھی جفا نہ کرے

وہ اہلِ دل نہیں جو عمر بھر وفا نہ کرے

خدا کسی کو کسی سے کبھی جدا نہ کرے

بچھڑ کے تجھ سے میں پل بھر جیوں خدا نہ کرے

میں چوم لوں گا اسے پردۂ تمنا میں

مِرے خیال کے مانند وہ سجا نہ کرے

تھکا ہوا ہوں بکھر جاؤں گا کہو اس سے

بہت دراز شبِ غم کا سلسلا نہ کرے

ذرا یہ دیکھو کہ ہم کس پہ جان دیتے ہیں

کبھی قریب نہ آئے جو سو بہانہ کرے

ہے راہ عشق میں خالد کو جان کا خطرہ

کہو کہ کر لے محبت فقط کہا نہ کرے


محمد خالد فتحپوری

No comments:

Post a Comment