Friday, 19 June 2026

دھواں دھواں ہے سر آسماں خدا حافظ

 دُھواں دُھواں ہے سرِ آسماں خُدا حافظ 

دھڑک رہا ہے دلِ ناتواں، خدا حافظ

نہ کوئی میرِ سفر ہے نہ کوئی منزل ہے 

بھٹک رہا ہے مِرا کارواں، خدا حافظ

نہ ا،لتفات نہ پُرسش، نہ واسطہ نہ کلام 

وہ ہو گئے ہیں بہت بد گُماں خدا حافظ

نہ جانے اہل وفا پر اب اور کیا گُزرے 

بدل رہا ہے نظام جہاں، خدا حافظ

چلا تھا ساتھ مگر رات کے اندھیرے میں 

بِچھڑ گیا وہ کہیں مہرباں، خدا حافظ

بھری بہار میں یہ حال ہے گُلستاں کا 

محیط رہتی ہے ہر دم خزاں، خدا حافظ

جمیل یاد ہے اب تک کہ دیدۂ تر سے 

کہا تھا اس نے تہِ سائباں؛ خدا حافظ


جمیل عظیم آبادی​

No comments:

Post a Comment