Saturday, 27 June 2026

جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے

 جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے

وہ گیروا لباس بدلتا دکھائی دے

دریائے زندگی کہ نگاہوں کا ہے قصور

ٹھہرا دکھائی دے کبھی چلتا دکھائی دے

پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ

ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائی دے

بہروپیے کے ہاتھ پڑے ہیں سو رات دن

دن رات رنگ روپ بدلتا دکھائی دے

رکھے ہے یوں تو پاؤں سنبھل سوچ کر مگر

نظروں کا فرش ہے کہ پھسلتا دکھائی دے

اس نام میں وہ شعلہ گری ہے جو لیجیے

ہر روم میں چراغ سا چلتا دکھائی دے

میں اشک شکل نام سے واقف نہیں مگر

اک شخص ہے جو ساتھ ہی چلتا دکھائی دے


بمل کرشن اشک

No comments:

Post a Comment