Tuesday, 16 June 2026

تم فاتح اور میں مفتوح کیوں ہیں

کتنا فرق ہو گا


تم سُہاگ کے بستر پر فتح مندی سے چُور ہو جاؤ گے

اپنا جھنڈا گاڑو گے

بے خبر سو جاؤ گے

اور میں

میرے ہاتھ ٹھنڈے رہیں گے

اور دل کانپتا رہے گا

میں کبھی نادم ہوں گی اور کبھی خوفزدہ

میں صبح تک خود سے لڑتی رہوں گی

کیونکہ میں

میں وہ ہوں

جس میں تم نو ماہ ٹھہرتے ہو

جس نے پہلے پہل تمہیں بیج بونا سکھایا

بے وقعت، بے مول

کُچلی ہوئی پالک

لیکن اب وہ ہوں

جو تمہارے بچے کُچھے حصوں سے بنی ہوں

میں ہوں

جو تمہیں ممنوعہ کی ترغیب دیتی ہوں

اسی لیے زنجیروں سے بندھی ہوں

میں نجس ہوں، گھٹیا ہوں، غلیظ ہوں

بے وقعت، بے مول، کُچلی ہوئی

لیکن سرُور و لُطف کا کوئی بھی لمحہ میرے بِنا ادھُورا کیوں ہے؟

تم پیدائش کے لیے میرے محتاج کیوں ہو؟

تمہارے بنائے قید خانوں کی آشتی میرے بِنا مکمل کیوں نہیں؟

تمہارے بچے میری ناپاک چھاتیوں کے لیے کیوں بِلکتے ہیں؟

میرے بِنا مصوروں کے رنگ

اور گِیتوں کے انگ اتنے پھیکے کیوں ہیں؟

تو پھر بتاؤ

سُہاگ کی رات

تم فاتح اور میں مفتوح کیوں ہیں؟


ڈاکٹر صنوبر الطاف

No comments:

Post a Comment