Friday, 19 June 2026

یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

 یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا

چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا

موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا

دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے

پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا

یوں ہنس رہے ہیں مجھ کو مصیبت میں دیکھ کر

جیسے کے میرے سر پہ خدا بھی نہیں رہا

جب دور تھے تو دل میں کدورت بھری رہی

ملنے کے بعد کوئی گلہ بھی نہیں رہا

ہاتھوں سے اپنے اب وہ لکیریں بھی مٹ گئیں

ہونٹوں پہ آج حرفِ دعا بھی نہیں رہا


جوہر تماپوری

No comments:

Post a Comment