یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
یوں ہنس رہے ہیں مجھ کو مصیبت میں دیکھ کر
جیسے کے میرے سر پہ خدا بھی نہیں رہا
جب دور تھے تو دل میں کدورت بھری رہی
ملنے کے بعد کوئی گلہ بھی نہیں رہا
ہاتھوں سے اپنے اب وہ لکیریں بھی مٹ گئیں
ہونٹوں پہ آج حرفِ دعا بھی نہیں رہا
جوہر تماپوری
No comments:
Post a Comment