Saturday, 20 June 2026

کہاں ہو گا کدھر ہو گا دل ناکام کیا ہو گا

 کہاں ہو گا کدھر ہو گا دل ناکام کیا ہو گا

خدا جانے محبت میں تِرا انجام کیا ہو گا

طبع آزاد پیدا کر،۔ دل بے خوف پیدا کر

جسے ڈر محتسب کا ہو وہ مے آشام کیا ہو گا

نیا دیوانہ ہوں مجھ کو نئی زنجیر سے باندھو

پرانا انتشارِ زلف میرا دام کیا ہو گا

پلانا ہی اگر مقصود ہے بھر بھر پلاتا جا

ہماری پیاس کے آگے یہ خالی جام کیا ہو گا

صفِ آخر میں بھی لبریز پیمانہ ملا ہم کو

کرم ساقی کا اس سے اور بڑھ کر عام کیا ہو گا

بدل جائے جو صبحِ وصل سے شامِ جدائی تو

تمہیں نقصان آخر گردشِ ایام کیا ہو گا

تمہیں کیوں فکر ہے یارو تڑپنے دو تڑپنے دو

تڑپنے کا میں عادی ہوں مجھے آرام کیا ہو گا

جلالِ بے نوا! ذوقِ سخن گوئی نہ گر بدلا

تو پھر ان بے مزا شعروں سے تیرا نام کیا ہو گا


جلال ہری پوری

قاضی محمد جلال الدین

No comments:

Post a Comment