سفینے جو کِنارے آ گئے ہیں
عزیمت کے سہارے آ گئے ہیں
محبت میں گِرائے جب بھی آنسو
تو دامن میں سِتارے آ گئے ہیں
اندھیرے میں اُجالا ہو رہا ہے
زمیں پر چاند تارے آ گئے ہیں
نہ راس آیا ہے جینا اور مرنا
کہاں پر غم کے مارے آ گئے ہیں
ہماری چشمِ نم کی لاج رکھنا
سرِ مِژگاں سِتارے آ گئے ہیں
جو ٹکرائے ہیں طوفانوں سے راہی
سفینے وہ کِنارے آ گئے ہیں
رشید راہی اٹاوی
No comments:
Post a Comment