Monday, 1 June 2026

سفینے جو کنارے آ گئے ہیں

 سفینے جو کِنارے آ گئے ہیں

عزیمت کے سہارے آ گئے ہیں

محبت میں گِرائے جب بھی آنسو

تو دامن میں سِتارے آ گئے ہیں

اندھیرے میں اُجالا ہو رہا ہے

زمیں پر چاند تارے آ گئے ہیں

نہ راس آیا ہے جینا اور مرنا

کہاں پر غم کے مارے آ گئے ہیں

ہماری چشمِ نم کی لاج رکھنا

سرِ مِژگاں سِتارے آ گئے ہیں

جو ٹکرائے ہیں طوفانوں سے راہی

سفینے وہ کِنارے آ گئے ہیں


رشید راہی اٹاوی

No comments:

Post a Comment