Monday, 29 June 2026

درد تنہائی الگ ہے شادمانی ہے الگ

 دردِ تنہائی الگ ہے شادمانی ہے الگ

میرا قِصہ اور ہے ان کی کہانی ہے الگ

ایک ہے موسم خزاں کا ایک ہے فصلِ بہار

دورِ پِیری ہے الگ عہدِ جوانی ہے الگ

جامِ صہبا میں کہاں ایسا مزا ہے ساقیا

تیری آنکھوں کی شرابِ ارغوانی ہے الگ

حشر میں پیشِ خُدا کُھلتے ہیں سب عیب و ہُنر

دُودھ کا دُودھ اور ہے پانی کا پانی ہے الگ

وہ ہے میدانِ جزا، یہ آزمائش کی جگہ

دارِ عُقبیٰ اور ہے دُنیائے فانی ہے الگ

حُکم کا سِکہ چلانا ملک میں ہے اور بات

ملک والوں کے دِلوں پر حکمرانی ہے الگ

لُوٹتے ہیں باغباں کرتے ہیں رکھوالی کہاں

دورِ حاضر میں طریقِ باغبانی ہے الگ

وہ دِلوں کو توڑتی ہے، یہ مِلاتی ہے انہیں

تلخ گوئی ہے الگ، شِیریں زبانی ہے الگ

لُطف سے عاری سہی دِل موہ لیتی ہے ضرور

ہے الگ برتر تمہاری شعر خوانی ہے الگ


برتر مدراسی

محمد عبدالمناف برتر

No comments:

Post a Comment