یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد
غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد
کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے
مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد
جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر
اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد
بس چلا ہے تصور پہ کس کا بھلا
یاد وہ اور آئے بھلانے کے بعد
ظلم سہتا ہوں کوچے میں یہ سوچ کر
گھر نہیں دوسرا اس ٹھکانے کے بعد
خاص فطرت حسینوں کی ہے دوستوں
وہ کریں ترک الفت نبھانے کے بعد
جو تھے اپنے کبھی ہو گئے غیر وہ
ان کو تصدیق اپنا بنانے کے بعد
آنکھ میری نہ یوں دیکھ کر بھر گئی
آج دیکھا ہے اس کو زمانے کے بعد
تصدیق احمد خان
No comments:
Post a Comment