Wednesday, 24 June 2026

غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد

 یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد

غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد

کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے

مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد

جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر

اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد

بس چلا ہے تصور پہ کس کا بھلا

یاد وہ اور آئے بھلانے کے بعد

ظلم سہتا ہوں کوچے میں یہ سوچ کر

گھر نہیں دوسرا اس ٹھکانے کے بعد

خاص فطرت حسینوں کی ہے دوستوں

وہ کریں ترک الفت نبھانے کے بعد

جو تھے اپنے کبھی ہو گئے غیر وہ

ان کو تصدیق اپنا بنانے کے بعد

آنکھ میری نہ یوں دیکھ کر بھر گئی

آج دیکھا ہے اس کو زمانے کے بعد


تصدیق احمد خان

No comments:

Post a Comment