خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر
کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر
شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا
چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر
فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے
مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر
ستا لے اے فلک مجھ کو جہاں تک تیرا جی چاہے
ستم پرور ستم جھیلوں گا میں شیر زماں ہو کر
کروں میں انقلابِ دہر کا شکوہ معاذاللہ
ہے تف مجھ پر ڈروں گر جیل سے میں نوجواں ہو کر
دھلتا ہے کلیجہ دشمنوں کا دیکھ کر حسرت
چلا کرتے ہو بیڑی پہن کر جب شادماں ہو کر
حسرت وارثی
اشفاق اللہ خاں حسرت
No comments:
Post a Comment