Wednesday, 17 June 2026

خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر

خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر

کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر

شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا

چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر

فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے

مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر

ستا لے اے فلک مجھ کو جہاں تک تیرا جی چاہے

ستم پرور ستم جھیلوں گا میں شیر زماں ہو کر

کروں میں انقلابِ دہر کا شکوہ معاذاللہ

ہے تف مجھ پر ڈروں گر جیل سے میں نوجواں ہو کر

دھلتا ہے کلیجہ دشمنوں کا دیکھ کر حسرت

چلا کرتے ہو بیڑی پہن کر جب شادماں ہو کر


حسرت وارثی

اشفاق اللہ خاں حسرت

No comments:

Post a Comment