Showing posts with label محمود پاشا. Show all posts
Showing posts with label محمود پاشا. Show all posts

Wednesday, 23 February 2022

مت مسافت کا تم اثر لینا

 مت مسافت کا تم اثر لینا

نیند رستے میں تھوڑی کر لینا

زیست کٹ جائے گی سہولت سے

اپنی آنکھوں میں خواب بھر لینا

چوری ہونے کا احتمال نہیں

میری یادیں کہیں بھی دھر لینا

Monday, 15 November 2021

روپ کی ہوتی اگر وہ دولتی

 روپ کی ہوتی اگر وہ دولتی

آنسووں کو خاک میں کب رولتی

ایک حسرت ہی رہی یہ عمر بھر

تیری آنکھوں سے محبت بولتی

اس کو بھاتی ہی نہیں تازہ ہوا

ورنہ گھر کے وہ دریچے کھولتی

Sunday, 14 November 2021

چاند تیری چاندنی بے کار ہے

 چاندنی


جب تلک ناچیں نہ لہریں بحر پر

ہو چکوری پر نہ طاری بے خودی

روپ دلہن کا نہ دھارے دشت گر

مورنی بولے نہ آدھی رات کو

مہ جبینوں کے نہ دل دھڑکیں اگر

بوجھ اپنا جو ڈھو نہیں سکتا

 بوجھ اپنا جو ڈھو نہیں سکتا

وہ سکوں سے تو سو نہیں سکتا

میں اسارا گیا ہوں مٹی سے

میں فرشتہ تو ہو نہیں سکتا

مارنے والے رویا کرتے ہیں

مرنے والا  تو رو نہیں سکتا

Saturday, 3 July 2021

اگر موسم سہانا رقص کرتا

 اگر موسم سہانا رقص کرتا

گلی کا ہر سیانا رقص کرتا

گھڑی کے پاؤں میں گھنگرو نہیں ہیں

وگرنہ، یہ زمانہ رقص کرتا

میرے گھر میں بھی جو آتی امیری

تو میں بھی مُفلسانہ رقص کرتا