مت مسافت کا تم اثر لینا
نیند رستے میں تھوڑی کر لینا
زیست کٹ جائے گی سہولت سے
اپنی آنکھوں میں خواب بھر لینا
چوری ہونے کا احتمال نہیں
میری یادیں کہیں بھی دھر لینا
مت مسافت کا تم اثر لینا
نیند رستے میں تھوڑی کر لینا
زیست کٹ جائے گی سہولت سے
اپنی آنکھوں میں خواب بھر لینا
چوری ہونے کا احتمال نہیں
میری یادیں کہیں بھی دھر لینا
روپ کی ہوتی اگر وہ دولتی
آنسووں کو خاک میں کب رولتی
ایک حسرت ہی رہی یہ عمر بھر
تیری آنکھوں سے محبت بولتی
اس کو بھاتی ہی نہیں تازہ ہوا
ورنہ گھر کے وہ دریچے کھولتی
چاندنی
جب تلک ناچیں نہ لہریں بحر پر
ہو چکوری پر نہ طاری بے خودی
روپ دلہن کا نہ دھارے دشت گر
مورنی بولے نہ آدھی رات کو
مہ جبینوں کے نہ دل دھڑکیں اگر
بوجھ اپنا جو ڈھو نہیں سکتا
وہ سکوں سے تو سو نہیں سکتا
میں اسارا گیا ہوں مٹی سے
میں فرشتہ تو ہو نہیں سکتا
مارنے والے رویا کرتے ہیں
مرنے والا تو رو نہیں سکتا
اگر موسم سہانا رقص کرتا
گلی کا ہر سیانا رقص کرتا
گھڑی کے پاؤں میں گھنگرو نہیں ہیں
وگرنہ، یہ زمانہ رقص کرتا
میرے گھر میں بھی جو آتی امیری
تو میں بھی مُفلسانہ رقص کرتا