Sunday, 14 November 2021

بوجھ اپنا جو ڈھو نہیں سکتا

 بوجھ اپنا جو ڈھو نہیں سکتا

وہ سکوں سے تو سو نہیں سکتا

میں اسارا گیا ہوں مٹی سے

میں فرشتہ تو ہو نہیں سکتا

مارنے والے رویا کرتے ہیں

مرنے والا  تو رو نہیں سکتا

چاہے اجلی ہے یا یہ میلی ہے

میں محبت کو دھو نہیں سکتا

خواب آنکھوں میں خود اترتے ہیں

کوئی آنکھوں میں بو نہیں سکتا

اس اندھیرے میں خود نظر آئے

دے وہ اتنی بھی لو نہیں سکتا؟

کیسے ڈھونڈے گا وہ خدا محمود

ڈھونڈ خود کو بھی جو نہیں سکتا


محمود پاشا

No comments:

Post a Comment