Sunday, 14 November 2021

تيرا وجود نہیں گر تو لفظ ہو کيا ہے

 رقصِ ہُو


تيرا وجود نہیں گر تو لفظِ ہُو کيا ہے

عشق میں کٹ نہ سکے پھر تو وہ گُلو کيا ہے

وجودِ ابنِ آدم میں ہے تيرا عکس عياں

تو پھر ہے شور شرابہ يہ چار سُو کيا ہے

گلشنِ يار میں قُمرى کو وہ تميز کہاں

تم ہى بتلاؤ ہميں کہ يہ رنگ و بُو کيا ہے

ہميں الہام ہوا ہے يہ رقصِ ہُو کى صدا

بتا تو ديجئے آخر کہ رقصِ ہُو کيا ہے

سبھى کو آس ہے وحشت میں دلرُبائى کى

وجودِ عکسِ خدائى کى جستجُو کيا ہے

کہا گيا کہ يہ دنيا تو اک سراب ہے بس

اگر سراب ہے تو فطرتِ نشُو کيا ہے

تمہارے ديس میں رہتے ہیں اداکار بہت

کوئى احساس نہیں ہے کہ آبرُو کيا ہے

نيتِ پاک تو لازم ہے عبادت کے لیے

ورنہ سو بار کرو پھر بھى يہ وضُو کيا ہے

صبح سے شام تک اس نا خدا کى بستى میں

جو تم نہیں ہے تو پھر شورِ کُو بہ کُو کيا ہے

اب تو ميخانے سے ہم دور جا چکے ہیں بہت

ہم سے مت پوچھ کہ يہ ساقى و سبُو کيا ہے

لاکھ کوشش کے بھى آنکھوں سے نہ ہو پائى بياں

دردِ دل تُو ہى بتا دل میں يہ رفُو کيا ہے

ہنوز ہم سے نہ پوچھو کہ کيا ہوا صابر

ہم اپنے آپ سے کہتے ہیں يہ لہُو کيا ہے


صابر فرحان بلتستانی

No comments:

Post a Comment