Sunday, 14 November 2021

میں شہر میں ہوں کہ صحرائے بے کنار میں ہوں

 میں شہر میں ہوں کہ صحرائے بے کنار میں ہوں

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کس دیار میں ہوں

مجھے یقیں ہے کہ اک دن ضرور اُبھروں گا

ابھی تو لِپٹا ہوا چادرِ غبار میں ہوں

مِرا ہی تذکرہ کیوں تیری بزمِ ناز میں ہے

مِرا شمار ہی کیا ہے میں کس شمار میں ہوں

نہ جانے کب وہ مسرت کی صبح آئے گی

تمام عمر سے میں جس کے انتظار میں ہوں

یہی کرم تِرا کیا کم ہے اے مِرے مالک

غلامِ سرورِ کونینﷺ کی قطار میں ہوں


حبیب ہاشمی

No comments:

Post a Comment