Sunday, 14 November 2021

ہر کمند ہوس سے باہر ہے

 ہر کمندِ ہوس سے باہر ہے

طائرِ جاں قفس سے باہر ہے

موت کا ایک دن معین ہے

زندگی دسترس سے باہر ہے

قافلے میں ہم اس مقام پہ ہیں

جو صدائے جرس سے باہر ہے

کوئی شے گھر کی خوش نہیں آتی

وہ برس دو برس سے باہر ہے


خالد محمود

No comments:

Post a Comment