Sunday, 14 November 2021

سوال کرتے ہیں چہرے تمہاری ماؤں کے

 سوال کرتے ہیں چہرے تمہاری ماؤں کے

کہاں گئے جو محافظ تھے ان رداؤں کے؟

میں اب کے سال بڑی آفتوں کی زد پر ہوں

حصار ٹوٹ رہے ہیں مِری دعاؤں کے

وہ جاتے جاتے بھی رستہ ہمیں بتا کے گیا

ہیں سنگِ میل کی صورت نشان پاؤں کے

حویلیاں انہیں زِنداں سے کم نہیں لگتیں

جنہیں پسند ہیں کچے مکان گاؤں کے

ہنسی لبوں پہ مگر دل میں آبلے رکھنا

یہ حوصلے ہیں فقط درد آشناؤں کے

کبھی دعا تو کبھی آس ٹوٹ جاتی ہے

ہیں میرے ساتھ بہت سلسلے بلاؤں کے

وہ چل پڑا ہے مگر راستے میں ثروت

پیام آنے لگے ہیں مجھے ہواؤں کے


ثروت ظفر

No comments:

Post a Comment