Showing posts with label آفتاب باسم. Show all posts
Showing posts with label آفتاب باسم. Show all posts

Thursday, 24 November 2022

دشت دل میں دور تک اب کوئی صدا نہیں

 دشتِ دل میں دور تک اب کوئی صدا نہیں

کوئی آرزو نہیں،۔ کوئی سلسلہ نہیں

آنکھ کے دیار سے غم کے ریگزار تک

تجھ کو ڈھونڈتے رہے، تُو مگر ملا نہیں

آپ کب غلط ہوئے؟ میں ہی بدگمان ہوں

آپ تو خدا ہوئے،۔ آپ سے گِلہ نہیں

Friday, 15 October 2021

غم کا ہم نے تماشا کبھی بنایا نہیں

 زمیں کا وصف ہے پانی کو جذب کر جانا 

سو غم کا ہم نے تماشا کبھی بنایا نہیں 

وہی بدن کی تراشوں پہ شعر کہتے ہیں 

جنہیں کبھی بھی محبت نے منہ لگایا نہیں

وہ ایک گھاؤ بدن پر نشاں نہیں جس کا 

وہ ایک درد جو میرے بیاں میں آیا نہیں 

Wednesday, 13 October 2021

فضائے دہر کا سارا ہی سلسلہ دکھ ہے

 فضائے دہر کا سارا ہی سلسلہ دکھ ہے 

ثبات دکھ ہے مگر اس سے بڑھ کے لا دکھ ہے 

ہماری مٹی میں یزداں نے جانے کیا بویا 

ہر ایک نخلِ تمنا سے پُھوٹتا دکھ ہے 

تجھے کہا تھا؛ کہ اتنا قریب مت آؤ

میں جانتا تھا بچھڑنا بہت بڑا دکھ ہے 

Tuesday, 12 October 2021

حیرت کو توڑ حال سے حالت پہ رقص کر

 حیرت کو توڑ حال سے، حالت پہ رقص کر

وحدت میں خود کو جھونک کے کثرت پہ رقص کر

اس مرگ بر مراد پہ یوں اشک مت بہا

عارف کا یہ وصال ہے میت پہ رقص کر

باہر نکال روح کو زندانِ خاک سے

پرزے اڑا وجود کے، تربت پہ رقص کر

Monday, 11 October 2021

اک پیکر خیال کا دھوکہ نگل گیا

 اک پیکرِ خیال کا دھوکا نگل گیا

ہم کو ہمارے شوق کا غلبہ نگل گیا

وہ آگ کوزہ گر نے بھری تھی خمیر میں

مجھ کو مِرا جنون ہی زندہ نگل گیا

مبہوت ہو کے رہ گٸی تاریخ رزم گاہ

باطل کو اک حسینؑ کا سجدہ نگل گیا

Sunday, 20 June 2021

اس نے مجھ میں عشق جگایا پھینک دیا

 اس نے مجھ میں عشق جگایا، پھینک دیا

جیسے پھل کو کھا کر چِھلکا پھینک دیا

اس کے ہاتھ میں دو دل تھے اور پھر اک دن

اس نے ایک کو رکھا، دُوجا پھینک دیا

آخر ایک مُسلسل کرب کہاں تک رُکتا

دل نے آنکھ کی جانب دریا پھینک دیا