دشتِ دل میں دور تک اب کوئی صدا نہیں
کوئی آرزو نہیں،۔ کوئی سلسلہ نہیں
آنکھ کے دیار سے غم کے ریگزار تک
تجھ کو ڈھونڈتے رہے، تُو مگر ملا نہیں
آپ کب غلط ہوئے؟ میں ہی بدگمان ہوں
آپ تو خدا ہوئے،۔ آپ سے گِلہ نہیں
دشتِ دل میں دور تک اب کوئی صدا نہیں
کوئی آرزو نہیں،۔ کوئی سلسلہ نہیں
آنکھ کے دیار سے غم کے ریگزار تک
تجھ کو ڈھونڈتے رہے، تُو مگر ملا نہیں
آپ کب غلط ہوئے؟ میں ہی بدگمان ہوں
آپ تو خدا ہوئے،۔ آپ سے گِلہ نہیں
زمیں کا وصف ہے پانی کو جذب کر جانا
سو غم کا ہم نے تماشا کبھی بنایا نہیں
وہی بدن کی تراشوں پہ شعر کہتے ہیں
جنہیں کبھی بھی محبت نے منہ لگایا نہیں
وہ ایک گھاؤ بدن پر نشاں نہیں جس کا
وہ ایک درد جو میرے بیاں میں آیا نہیں
فضائے دہر کا سارا ہی سلسلہ دکھ ہے
ثبات دکھ ہے مگر اس سے بڑھ کے لا دکھ ہے
ہماری مٹی میں یزداں نے جانے کیا بویا
ہر ایک نخلِ تمنا سے پُھوٹتا دکھ ہے
تجھے کہا تھا؛ کہ اتنا قریب مت آؤ
میں جانتا تھا بچھڑنا بہت بڑا دکھ ہے
حیرت کو توڑ حال سے، حالت پہ رقص کر
وحدت میں خود کو جھونک کے کثرت پہ رقص کر
اس مرگ بر مراد پہ یوں اشک مت بہا
عارف کا یہ وصال ہے میت پہ رقص کر
باہر نکال روح کو زندانِ خاک سے
پرزے اڑا وجود کے، تربت پہ رقص کر
اک پیکرِ خیال کا دھوکا نگل گیا
ہم کو ہمارے شوق کا غلبہ نگل گیا
وہ آگ کوزہ گر نے بھری تھی خمیر میں
مجھ کو مِرا جنون ہی زندہ نگل گیا
مبہوت ہو کے رہ گٸی تاریخ رزم گاہ
باطل کو اک حسینؑ کا سجدہ نگل گیا
اس نے مجھ میں عشق جگایا، پھینک دیا
جیسے پھل کو کھا کر چِھلکا پھینک دیا
اس کے ہاتھ میں دو دل تھے اور پھر اک دن
اس نے ایک کو رکھا، دُوجا پھینک دیا
آخر ایک مُسلسل کرب کہاں تک رُکتا
دل نے آنکھ کی جانب دریا پھینک دیا