زمیں کا وصف ہے پانی کو جذب کر جانا
سو غم کا ہم نے تماشا کبھی بنایا نہیں
وہی بدن کی تراشوں پہ شعر کہتے ہیں
جنہیں کبھی بھی محبت نے منہ لگایا نہیں
وہ ایک گھاؤ بدن پر نشاں نہیں جس کا
وہ ایک درد جو میرے بیاں میں آیا نہیں
کوئی شباب روایات کھا گئیں باسم
وہ مجھ پہ مرتی رہی پر مجھے بتایا نہیں
آفتاب باسم
No comments:
Post a Comment