کیا مسئلہ ہے آپ شکایت تو کیجیۓ
میرے ہیں آپ زیب محبت تو کیجیۓ
افسوس آپ کرتے نہیں کر بھی سکتے ہیں
بس اس کو بھول جائیں گے ہمت تو کیجیۓ
میں جانتی ہوں یہ کہ امانت ہوں آپ کی
چُھو کر وجود میرا خیانت تو کیجیۓ
کر لیں نکاح آپ خوشی سے یہ سوچ کر
کچھ ہی سہی جان! عبادت تو کیجیۓ
جانے سے پہلے کیسے بتاؤں میں آنے کا
آ جاؤں گی پلٹ کے میں رخصت تو کیجیۓ
کس بات پر میں روٹھوں بتائیں بھلا مجھے
مجھ کو چھیڑیں ذرا سی شرارت تو کیجیۓ
کچھ تو کریں ناں زیب محبت اگر نہیں
حاضر ہوں عشق گر نہیں نفرت تو کیجیۓ
زیب اوریا
No comments:
Post a Comment