Friday, 15 October 2021

کیا مسئلہ ہے آپ شکایت تو کیجیے

 کیا مسئلہ ہے آپ شکایت تو کیجیۓ

میرے ہیں آپ زیب محبت تو کیجیۓ

افسوس آپ کرتے نہیں کر بھی سکتے ہیں

بس اس کو بھول جائیں گے ہمت تو کیجیۓ

میں جانتی ہوں یہ کہ امانت ہوں آپ کی

چُھو کر وجود میرا خیانت تو کیجیۓ

کر لیں نکاح آپ خوشی سے یہ سوچ کر

کچھ ہی سہی جان! عبادت تو کیجیۓ

جانے سے پہلے کیسے بتاؤں میں آنے کا

آ جاؤں گی پلٹ کے میں رخصت تو کیجیۓ

کس بات پر میں روٹھوں بتائیں بھلا مجھے

مجھ کو چھیڑیں ذرا سی شرارت تو کیجیۓ

کچھ تو کریں ناں زیب محبت اگر نہیں

حاضر ہوں عشق گر نہیں نفرت تو کیجیۓ


زیب اوریا

No comments:

Post a Comment