Showing posts with label پروین طاہر. Show all posts
Showing posts with label پروین طاہر. Show all posts

Thursday, 27 April 2023

اے اشٹم کے چاند یقیناً پورن ماہ میں ڈھلنا ہے

اے اشٹم کے چاند

تمہاری کرنوں سے

دور ہوا نہ لیکھوں لکھا 

ازلی گھور اندھیرا

اسی لیے میں دن بھر

تپتے سورج سے

Saturday, 10 December 2022

میں ترنجن میں بیٹھی رہ گئی

میں ترنجن میں بیٹھی رہ گئی

بیچ ترنجن بیٹھے بیٹھے

ایک پرانا گیت سکھی نے

درد بھری اک لے پر چھیڑا

جآنے کون دِشا میں لایا

گھور سمے کا گیڑا

Wednesday, 23 November 2022

کاش تم دیکھ سکتے

 کاش تم دیکھ سکتے 

میرے دل میں اُگے اس درخت  کو

جس کی ایک جڑ چنبے کی 

دوسری پیلو کی

تیسری شاہ حسین کے مزار پر جھومتے بڑ کی 

اور چوتھی تمہاری محبت کی ہے

Tuesday, 15 March 2022

تماشہ لگانے کو اک ڈگڈگی ایک بندر

 تماشہ


تماشہ لگانے کو اک

ڈگڈگی، ایک بندر

تماشائی کچھ

اور آواز کے زیر و بم

کو اٹھانے بٹھانے کی

Monday, 21 February 2022

سرخ ورثہ یاد ہے تم کو وہ دن

 سرخ ورثہ


یاد ہے تم کو وہ دن

جب رہٹ سے کچھ فاصلے پر

ہم نے سُلگایا ہوا تھا

ایک ننھا سا الاؤ

خشک پتوں، ٹہنیوں

Wednesday, 2 February 2022

اے زمانے ہم تری تکذیب کر سکتے نہیں

 اے زمانے

ہم تِری تکذیب کر سکتے نہیں

تُو نے ہٹائے پردہ ہائے خوشنما

وہ جن کے پیچھے چھپ کے بیٹھی

زندگی پہچان بھی پاتے تو کیسے

اے زمانے

Monday, 27 December 2021

تم بھی کن رس نہیں تھے

 تم بھی کن رس نہیں تھے


یاد ہے ایک دوست نے بتایا تھا

کہ وادی سُر لگانے سے

راگنی باطل ہو جاتی ہے

راگنی کے باطل ہونے کا تصور

مجھے بہت ناگوار گزرا تھا

Wednesday, 24 November 2021

میرا پیش منظر کروکھیشتر کا میدان

 تئیسواں اشلوک


میرا پیش منظر کروکھیشتر کا میدان

سامنے صف آرا ہیں

میرے اپنے میرے لاڈلے

کمانیں کَسے

تیروں کا رخ میری جانب کیے

Sunday, 14 November 2021

کہاں جا رہے ہو

 کہاں


کہاں جا رہے ہو

سیہ روشنی کی

چکا چوند دھارا کے دوجے کنارے پہ

اندھا کنواں اک قدم فاصلہ

کہاں جی رہے ہو

Friday, 12 November 2021

آخری سمت میں بچھی بساط

 آخری سمت میں بچھی بساط


ہمیں ہر کھیل میں ہر بات پر

اے مات کے خواہاں

کبھی کھینچیں گے ہم باگیں

جنونی سر پھری اندھی ہواؤں کی

اڑائیں گے فلک پر

Thursday, 11 November 2021

دھوپ کی ٹھوکر رہ جاتی ہے

 دھوپ کی ٹھوکر


نیند میں چلتے چلتے یک دم

گر جاتے ہیں

اودے پھول شٹالے کے

بیر بہوٹی ساون کی

دور افق پر

Thursday, 16 September 2021

حبیب جاں تم اگر وبا کے دنوں میں آئے

 وبا کے دن


حبیبِ جاں

تم اگر وبا کے دنوں میں آئے

تو بصد عقیدت و محبت

تمہار ے ہاتھ چوموں گی

کیونکہ یہ میرے مسیحا کے ہاتھ ہیں

تمہاری چادر کو اپنے ہاتھوں سے

Thursday, 10 June 2021

جانے کس کی لو کا پرتو

 صدر دروازے پہ منتظر


جانے کس کی لو کا پرتو

پل پل جلتی بجھتی آنکھیں

جانے کس کی مدھ بھری مُسکان کا حیلہ

ڈانواں ڈول لرزتی بستی

اک بے انت سا عالم ہے

Saturday, 28 November 2020

بکل میں چھپ کر الم پھانکتی ہوں

بکل میں چھپ کے الم پھانکنا


کروں بھی تو کیا

اک خموشی سے دنیا 

سے منہ پھیر کر 

پھر سے بکل میں چھپ کر

الم پھانکتی ہوں

مری پرورش میں