اے اشٹم کے چاند
تمہاری کرنوں سے
دور ہوا نہ لیکھوں لکھا
ازلی گھور اندھیرا
اسی لیے میں دن بھر
تپتے سورج سے
اے اشٹم کے چاند
تمہاری کرنوں سے
دور ہوا نہ لیکھوں لکھا
ازلی گھور اندھیرا
اسی لیے میں دن بھر
تپتے سورج سے
میں ترنجن میں بیٹھی رہ گئی
بیچ ترنجن بیٹھے بیٹھے
ایک پرانا گیت سکھی نے
درد بھری اک لے پر چھیڑا
جآنے کون دِشا میں لایا
گھور سمے کا گیڑا
کاش تم دیکھ سکتے
میرے دل میں اُگے اس درخت کو
جس کی ایک جڑ چنبے کی
دوسری پیلو کی
تیسری شاہ حسین کے مزار پر جھومتے بڑ کی
اور چوتھی تمہاری محبت کی ہے
تماشہ
تماشہ لگانے کو اک
ڈگڈگی، ایک بندر
تماشائی کچھ
اور آواز کے زیر و بم
کو اٹھانے بٹھانے کی
سرخ ورثہ
یاد ہے تم کو وہ دن
جب رہٹ سے کچھ فاصلے پر
ہم نے سُلگایا ہوا تھا
ایک ننھا سا الاؤ
خشک پتوں، ٹہنیوں
اے زمانے
ہم تِری تکذیب کر سکتے نہیں
تُو نے ہٹائے پردہ ہائے خوشنما
وہ جن کے پیچھے چھپ کے بیٹھی
زندگی پہچان بھی پاتے تو کیسے
اے زمانے
تم بھی کن رس نہیں تھے
یاد ہے ایک دوست نے بتایا تھا
کہ وادی سُر لگانے سے
راگنی باطل ہو جاتی ہے
راگنی کے باطل ہونے کا تصور
مجھے بہت ناگوار گزرا تھا
تئیسواں اشلوک
میرا پیش منظر کروکھیشتر کا میدان
سامنے صف آرا ہیں
میرے اپنے میرے لاڈلے
کمانیں کَسے
تیروں کا رخ میری جانب کیے
کہاں
کہاں جا رہے ہو
سیہ روشنی کی
چکا چوند دھارا کے دوجے کنارے پہ
اندھا کنواں اک قدم فاصلہ
کہاں جی رہے ہو
آخری سمت میں بچھی بساط
ہمیں ہر کھیل میں ہر بات پر
اے مات کے خواہاں
کبھی کھینچیں گے ہم باگیں
جنونی سر پھری اندھی ہواؤں کی
اڑائیں گے فلک پر
دھوپ کی ٹھوکر
نیند میں چلتے چلتے یک دم
گر جاتے ہیں
اودے پھول شٹالے کے
بیر بہوٹی ساون کی
دور افق پر
وبا کے دن
حبیبِ جاں
تم اگر وبا کے دنوں میں آئے
تو بصد عقیدت و محبت
تمہار ے ہاتھ چوموں گی
کیونکہ یہ میرے مسیحا کے ہاتھ ہیں
تمہاری چادر کو اپنے ہاتھوں سے
صدر دروازے پہ منتظر
جانے کس کی لو کا پرتو
پل پل جلتی بجھتی آنکھیں
جانے کس کی مدھ بھری مُسکان کا حیلہ
ڈانواں ڈول لرزتی بستی
اک بے انت سا عالم ہے
بکل میں چھپ کے الم پھانکنا
کروں بھی تو کیا
اک خموشی سے دنیا
سے منہ پھیر کر
پھر سے بکل میں چھپ کر
الم پھانکتی ہوں
مری پرورش میں