Sunday, 14 November 2021

کہاں جا رہے ہو

 کہاں


کہاں جا رہے ہو

سیہ روشنی کی

چکا چوند دھارا کے دوجے کنارے پہ

اندھا کنواں اک قدم فاصلہ

کہاں جی رہے ہو

کھلی آنکھ کے دل نشیں خواب کی

ایک تصویر میں

جس کی تعبیر ازلوں سے معدوم ہے

کہاں ہنس رہے ہو

پسِ قہقہہ

آڈیبل رینج سے بھی بہت دور نیچے

کراہوں کی لہریں فنا ہو رہی ہیں

کہاں دیکھتے ہو

ستاروں کے پیچھے نئی کہکشائیں

جہاں پہ تجازب بھی اس پار جیسا

ریپلشن بھی جو کہ یہاں بھوگتے ہو

کہاں جا رہے ہو


پروین طاہر

No comments:

Post a Comment