Sunday, 14 November 2021

بگولا خوشی کا ہے یا غم کا

 بگولا


میں

ایک بگولے میں رہتا ہوں

مجھے نہیں معلوم

میں اس کے اندر کیسےآ گیا

بہت تیز گھومتا ہے یہ

ایک پل بھی نہیں رکتا

تنہا کر دیتا ہے

یہ بگولا

کسی کو بلا بھی نہیں سکتے

اس بگولے کے اندر

ایک چکر میں رہتے ہوئے

کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا

پتا ہی نہیں چلتا

بگولا خوشی کا ہے یا غم کا

ایک طرف ہو جاؤ

میں

تمہارے قریب سے گزر رہا ہوں


مصطفیٰ ارباب

No comments:

Post a Comment