Showing posts with label خرم آفاق. Show all posts
Showing posts with label خرم آفاق. Show all posts

Sunday, 3 July 2022

جتنا پیار اسے کرتا ہوں اتنی چاہت مل جاتی ہے

 جتنا پیار اسے کرتا ہوں، اتنی چاہت مل جاتی ہے

میں نے فائدہ کیا کرنا ہے، مجھ کو لاگت مل جاتی ہے

عشق اگر ہمسائے میں ہو جائے تو یہ فائدہ ہے

دل سے دل مل جاتا ہے اور چھت سے چھت مل جاتی ہے

خوف بھی آتا ہے اکثر تیری بڑھتی مشہوری سے

لوگ بدل بھی جاتے ہیں جب ان کو شہرت مل جاتی ہے

Wednesday, 13 April 2022

ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے

 ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے

ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اس کے

یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی

زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اس کے

وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے لیکن

اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اس کے

Sunday, 6 February 2022

بات کرتے ہوئے بے خیالی میں زلفیں کھلی چھوڑ دیں

 بات کرتے ہوئے بے خیالی میں زُلفیں کُھلی چھوڑ دیں

ہم نہتوں پہ آج اس نے کیسی بلائیں کھلی چھوڑ دیں

ساتھ جب تک رہے ایک لمحے کو بھی ربط ٹُوٹا نہیں

اٌس نے آنکھیں اگر بند کر لیں تو بانہیں کھلی چھوڑ دیں

کیا انوکھا یقیں تھا جو اُس دن اُتارا گیا شہر پر

گھر پلٹتے ہوئے تاجروں نے دُکانیں کھلی چھوڑ دیں

Sunday, 14 November 2021

یہ کس مرض کی دوائیں خرید رکھی ہیں

 یہ کس مرض کی دوائیں خرید رکھی ہیں

زمین ہے نہیں، اینٹیں خرید رکھی ہیں

اگر وہ ساتھ چلے تو مجھے خوشی ہو گی

وگرنہ، میں نے تو ٹکٹیں خرید رکھی ہیں

حضور کون ہے ان نیلی آنکھوں کا مالک

حضور کس نے یہ لہریں خرید رکھی ہیں

Thursday, 26 August 2021

درخت شاداب پھل رسیلے ہوا کریں گے

 درخت شاداب پھل رسیلے ہوا کریں گے 

کبھی یہ موسم بہت نشیلے ہوا کریں گے 

کبھی کبھی سر تلک پہنچ جائیں گی وہ لہریں 

کبھی کبھی صرف پاؤں گیلے ہوا کریں گے 

ہم اتنی تعداد میں لگائیں گے پیڑ پودے 

خزاں کے موسم میں صحن پیلے ہوا کریں گے

Tuesday, 20 April 2021

دیکھنے والی نگاہوں پہ عیاں ہوتے ہوئے

 دیکھنے والی نگاہوں پہ عیاں ہوتے ہوئے

ہم تِرے پیار کے سائے میں جواں ہوتے ہوئے

شب گزاری ہے کئی بار سڑک پر یونہی

ساتھ اک جاننے والے کا مکاں ہوتے ہوئے

ابھی آغازٍ محبت ہے ذرا حوصلہ رکھ

کبھی دیکھا نہیں دریا کو رواں ہوتے ہوئے

Friday, 19 March 2021

کسی شرط پر ترے دھیان سے نہیں جاؤں گا

 کسی شرط پر تِرے دھیان سے نہیں جاؤں گا

میں کہیں بھی اپنے مکان سے نہیں جاؤں گا

ذرا دھیان سے مِرے ذائقے کا چُناؤ کر

مجھے چکھ لیا تو زبان سے نہیں جاؤں گا

بڑے کج ادا ہیں یہ اقتدار کے راستے

مجھے لگ رہا ہے میں شان سے نہیں جاؤں گا

Thursday, 17 December 2020

ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے

 ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے

مسئلہ خیر سے نمٹ گیا ہے

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ کے چلتا ہوں

راستہ اب تو اتنا رٹ گیا ہے

وہ بھی خاموش ہو گیا میں بھی

یوں لگا جیسے فون کٹ گیا ہے

Tuesday, 8 September 2020

کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں

کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں
کہ بہہ رہا ہوں چل نہیں رہا ہوں میں
یہ سکھ بھی ہے کہ تیرے طاقچے میں ہوں
یہ دکھ بھی ہے کہ جل نہیں رہا ہوں میں
گلے لگا اے موسموں کے دیوتا
بدل مجھے، بدل نہیں رہا ہوں میں

ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب

ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب
آپ تلوار🗡اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب
خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے
ہجر میں کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب
دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے
اتنی آسانی سے چھٹتی نہیں کائی صاحب

یوں نہ ٹھہرو کسی کے سائے میں

یوں نہ ٹھہرو کسی کے سائے میں
تم شجر ہو ہماری رائے میں
ایک دن پوچھ ہی لیا اس نے
لطف باتوں میں ہے کہ چائے میں
ایسے تھوڑی یہاں تک آئی بات
وقت گزرا ہے ہیلو ہائے میں

نتائج جب سر محشر ملیں گے

نتائج جب سرِ محشر ملیں گے
محبت کے الگ نمبر ملیں گے
یہ دیواریں کسی کی منتظر ہیں
یہاں ہر سمت کیلنڈر ملیں گے
تمہاری میزبانی کے بہانے
کوئی دن ہم بھی اپنے گھر ملیں گے

Saturday, 5 September 2020

اپنا ہوتا نہ کسی چشم دگر میں رہتا

اپنا ہوتا، نہ کسی چشمِ دگر میں رہتا
اور کچھ روز جو میں تیری نظر میں رہتا
فاصلہ دیکھ ذرا رزق و محبت کے بیچ
اور خود سوچ کہ کب تک میں سفر میں رہتا
کوئی اپنوں کے علاوہ بھی نبھاتا مِرا ساتھ
کوئی لہروں کے علاوہ بھی بھنور میں رہتا

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی

طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی
وہ آپ تو کیا اس کی خبر بھی نہیں آئی
کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ
کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی
ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے
ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی

Thursday, 6 February 2020

خود سے مجھے ملا کے جدا ہو گیا تو بس

خود سے مجھے ملا کے جدا ہو گیا تو بس
غفلت سے بھی اگر وہ خفا ہو گیا تو بس
پہلے ہی وہ قدیم نظر مجھ سے خوش نہیں
میں تھوڑا سا بھی اور نیا ہو گیا تو بس
دنیا کو تیرے میرے تعلق پہ ناز ہے
تُو بھی مِرے خلاف کھڑا ہو گیا تو بس

Sunday, 5 January 2020

شجر پر ہی پرندے بیٹھتے ہیں

بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں
جو تیرے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں
اکیلے بیٹھنا ہو گا کسی کو
اگر ہم تم اکٹھے بیٹھتے ہیں
اور اب اٹھنا پڑا ناں اگلی صف سے
کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں

کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا
کچھ دن میں سامنے رہا کچھ دن نہیں رہا
پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے
اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا
ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں
وہ ہاتھ لگ گیا ہے، مگر چِھن نہیں رہا

دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا

دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا
ترا معاملہ ہم نے خدا پہ چھوڑ دیا
بہت خیال رکھا میرا اور درختوں کا
پھر اس نے دونوں کو آب و ہوا پہ چھوڑ دیا
میں چاہتا تھا وہی ایک دونوں جانب ہو
سو میں نے آئینہ اپنی جگہ پہ چھوڑ دیا