جتنا پیار اسے کرتا ہوں، اتنی چاہت مل جاتی ہے
میں نے فائدہ کیا کرنا ہے، مجھ کو لاگت مل جاتی ہے
عشق اگر ہمسائے میں ہو جائے تو یہ فائدہ ہے
دل سے دل مل جاتا ہے اور چھت سے چھت مل جاتی ہے
خوف بھی آتا ہے اکثر تیری بڑھتی مشہوری سے
لوگ بدل بھی جاتے ہیں جب ان کو شہرت مل جاتی ہے