Sunday, 3 July 2022

جتنا پیار اسے کرتا ہوں اتنی چاہت مل جاتی ہے

 جتنا پیار اسے کرتا ہوں، اتنی چاہت مل جاتی ہے

میں نے فائدہ کیا کرنا ہے، مجھ کو لاگت مل جاتی ہے

عشق اگر ہمسائے میں ہو جائے تو یہ فائدہ ہے

دل سے دل مل جاتا ہے اور چھت سے چھت مل جاتی ہے

خوف بھی آتا ہے اکثر تیری بڑھتی مشہوری سے

لوگ بدل بھی جاتے ہیں جب ان کو شہرت مل جاتی ہے

کبھی تو باغوں میں جا کر بھی ٹھیک سے سانس نہیں آتی

کبھی فقط کمرے کی کھڑکی کھول کے راحت مل جاتی ہے

دس سالوں سے پڑے ہوئے ہیں ہم بے حال تِرے دل میں

اتنے میں تو غیر ممالک کی شہریت مل جاتی ہے


خرم آفاق

No comments:

Post a Comment