Showing posts with label شاہنواز سرمد. Show all posts
Showing posts with label شاہنواز سرمد. Show all posts

Saturday, 27 September 2025

دھرتی ہوئی طیبہ کی سرشار محبت سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دھرتی ہوئی طیبہ کی سرشار محبت سے

اک گل نے کیے صحرا گلزار محبت سے

بن جائے مری بگڑی، جیون بھی سنور جائے

اک بار نظر کر دیں سرکارﷺ محبت سے

ہو اِذن حضوری کا پہنچوں میں مدینے میں

نم آنکھیں تکیں تیرا دربار محبت سے

Tuesday, 24 June 2025

خواب لکھوں یا کسی خواب کے ارماں لکھوں

 خواب لکھوں یا کسی خواب کے ارماں لکھوں

داستاں تیری میں کیا دیدۂ حیراں لکھوں

سوزِ فرقت میں ترے ڈوبتے سورج دیکھوں

چاک پھر صحرا نَوردوں کے گریباں لکھوں

زرد موسم میں تجھے آس کا بادل سمجھوں

دشتِ ہجراں میں تجھے سبزۂ درماں لکھوں

Tuesday, 27 May 2025

چہرہ شمس الضحیٰ دلربا آپ کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چہرہ شمس الضحیٰ، دلربا آپؐ کا

کوئی ثانی کہاں مصطفیٰﷺ آپ کا

حوض کوثر کے ساقی شہہ دوجہاں

دستِ قدرت ہے دستِ عطا آپ کا

شافعِ روز محشرﷺ کرم کیجیے

مجھ سے عاصی کو ہے آسرا آپ کا

Wednesday, 25 September 2024

عشق رسول پاک ہی مومن کی جان ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عشق رسول پاکؐ ہی مومن کی جان ہے

اس کے بغیر زندگی ویراں مکان ہے

پہنچے ہیں چرچے عرش تک حبشی بلال کے

ایسی در حضورﷺ کے منگتوں کی شان ہے

مجھ کو جلائے گرمئی محشر کی کیا مجال

نقش کف رسولﷺ مِرا سائبان ہے

Monday, 23 September 2024

کرم کر دے مولا عجب بے بسی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


"گناہوں کے دریا میں کشتی پھنسی ہے"

الٰہی نکال اب، کہ جاں تک چلی ہے

خدایا تو لوٹا دے رونق حرم کی

کرم کر دے مولا، عجب بے بسی ہے

کرم کر دے پیارے محمدﷺ کا صدقہ

گناہ گار اُمت پہ مشکل گھڑی ہے

Sunday, 22 September 2024

ڈوبا ڈوبا مرا بھلا کیجے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ڈوبا، ڈوبا مرا بھلا کیجے

نا خدائی، اے  کیجے

خالی جھولی میں کھولے بیٹھا ہوں

صدقہ حسنینؑ کا عطا کیجے

روز درشن کی اس کو بھیک ملے

اتنا مسرور تو یہ گدا کیجے

Saturday, 21 September 2024

آنکھوں کی ضیا دل کی صدا نام محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آنکھوں کی ضیاء دل کی صدا نامِ محمدﷺ

میں پڑھ کے سدا جھُوم اُٹھا نام محمدﷺ

ہے مرکزِ انوار و تجلّی مِری دھڑکن

ہر تارِ رگِ جاں پہ لِکھا نام محمدﷺ

جپتا ہے چمن سُن کے تیرے نام کی مالا

پڑھتی ہوئی آتی ہے صبا نام محمدﷺ

Friday, 20 September 2024

طیبہ کے مہمان ہو جائیں گے کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طیبہ کے مہمان ہو جائیں گے کیا

یہ گدا ذی شان ہو جائیں گے کیا

پاس بیٹھے جو نہیں ہیں دو گھڑی

عمر بھر مہمان ہو جائیں گے کیا

چوم لیں جو دشت طیبہ کی زمیں

بے عمل، عدنان ہو جائیں گے کیا

Thursday, 19 September 2024

یہ کہانی یہ قلمکار نہیں مرنے والا

 یہ کہانی، یہ قلمکار نہیں مرنے والا

کُن سے پیدا ہوا شہکار نہیں مرنے والا

اتنا میں خاص ہوں کہ، آئینہ بنایا مجھ کو

چڑھ بھی جاؤں میں اگر دار، نہیں مرنے والا

گردشِ وقت کہاں مجھ کو مِٹا پائے گی

تیری چاہت کا طلبگار نہیں مرنے والا

Sunday, 22 November 2020

تیرے جانے کی قیامت کا اثر باقی ہے

 تیرے جانے کی قیامت کا اثر باقی ہے

گھر کہاں باقی ہے اک اجڑا نگر باقی ہے

تیری فرقت نے میرے خواب تہِ خاک کیے

میرے لٹنے کی کہاں کوئی کسر باقی ہے

بعد تیرے نہ رہی کوئی خوشی آنگن میں

یاد باقی ہے تیری، کچھ بھی اگر باقی ہے