عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دھرتی ہوئی طیبہ کی سرشار محبت سے
اک گل نے کیے صحرا گلزار محبت سے
بن جائے مری بگڑی، جیون بھی سنور جائے
اک بار نظر کر دیں سرکارﷺ محبت سے
ہو اِذن حضوری کا پہنچوں میں مدینے میں
نم آنکھیں تکیں تیرا دربار محبت سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دھرتی ہوئی طیبہ کی سرشار محبت سے
اک گل نے کیے صحرا گلزار محبت سے
بن جائے مری بگڑی، جیون بھی سنور جائے
اک بار نظر کر دیں سرکارﷺ محبت سے
ہو اِذن حضوری کا پہنچوں میں مدینے میں
نم آنکھیں تکیں تیرا دربار محبت سے
خواب لکھوں یا کسی خواب کے ارماں لکھوں
داستاں تیری میں کیا دیدۂ حیراں لکھوں
سوزِ فرقت میں ترے ڈوبتے سورج دیکھوں
چاک پھر صحرا نَوردوں کے گریباں لکھوں
زرد موسم میں تجھے آس کا بادل سمجھوں
دشتِ ہجراں میں تجھے سبزۂ درماں لکھوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چہرہ شمس الضحیٰ، دلربا آپؐ کا
کوئی ثانی کہاں مصطفیٰﷺ آپ کا
حوض کوثر کے ساقی شہہ دوجہاں
دستِ قدرت ہے دستِ عطا آپ کا
شافعِ روز محشرﷺ کرم کیجیے
مجھ سے عاصی کو ہے آسرا آپ کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عشق رسول پاکؐ ہی مومن کی جان ہے
اس کے بغیر زندگی ویراں مکان ہے
پہنچے ہیں چرچے عرش تک حبشی بلال کے
ایسی در حضورﷺ کے منگتوں کی شان ہے
مجھ کو جلائے گرمئی محشر کی کیا مجال
نقش کف رسولﷺ مِرا سائبان ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
"گناہوں کے دریا میں کشتی پھنسی ہے"
الٰہی نکال اب، کہ جاں تک چلی ہے
خدایا تو لوٹا دے رونق حرم کی
کرم کر دے مولا، عجب بے بسی ہے
کرم کر دے پیارے محمدﷺ کا صدقہ
گناہ گار اُمت پہ مشکل گھڑی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ڈوبا، ڈوبا مرا بھلا کیجے
نا خدائی، اے کیجے
خالی جھولی میں کھولے بیٹھا ہوں
صدقہ حسنینؑ کا عطا کیجے
روز درشن کی اس کو بھیک ملے
اتنا مسرور تو یہ گدا کیجے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آنکھوں کی ضیاء دل کی صدا نامِ محمدﷺ
میں پڑھ کے سدا جھُوم اُٹھا نام محمدﷺ
ہے مرکزِ انوار و تجلّی مِری دھڑکن
ہر تارِ رگِ جاں پہ لِکھا نام محمدﷺ
جپتا ہے چمن سُن کے تیرے نام کی مالا
پڑھتی ہوئی آتی ہے صبا نام محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کے مہمان ہو جائیں گے کیا
یہ گدا ذی شان ہو جائیں گے کیا
پاس بیٹھے جو نہیں ہیں دو گھڑی
عمر بھر مہمان ہو جائیں گے کیا
چوم لیں جو دشت طیبہ کی زمیں
بے عمل، عدنان ہو جائیں گے کیا
یہ کہانی، یہ قلمکار نہیں مرنے والا
کُن سے پیدا ہوا شہکار نہیں مرنے والا
اتنا میں خاص ہوں کہ، آئینہ بنایا مجھ کو
چڑھ بھی جاؤں میں اگر دار، نہیں مرنے والا
گردشِ وقت کہاں مجھ کو مِٹا پائے گی
تیری چاہت کا طلبگار نہیں مرنے والا
تیرے جانے کی قیامت کا اثر باقی ہے
گھر کہاں باقی ہے اک اجڑا نگر باقی ہے
تیری فرقت نے میرے خواب تہِ خاک کیے
میرے لٹنے کی کہاں کوئی کسر باقی ہے
بعد تیرے نہ رہی کوئی خوشی آنگن میں
یاد باقی ہے تیری، کچھ بھی اگر باقی ہے