Showing posts with label اشفاق ناصر. Show all posts
Showing posts with label اشفاق ناصر. Show all posts

Friday, 4 August 2023

ہم دشت دل کو نقش سے آباد کر سکیں

 ہم دشتِ دل کو نقش سے آباد کر سکیں

ملتے رہا کرو کہ تمہیں یاد کر سکیں

خود پر تو ایک عمر سے بس چل نہیں رہا

چڑیا خرید لاؤ کہ آزاد کر سکیں

اشکوں میں ہے سمائی ہوئی ایک جل ہری

اے کاش اس پری کو زمیں زاد کر سکیں

Thursday, 14 July 2022

جاگ کر خواب سے بستر کی طرف دیکھا تھا

 جاگ کر خواب سے بستر کی طرف دیکھا تھا

اور پھر چرخِ ستمگر کی طرف دیکھا تھا

تُو نے دیکھا تھا وہ پل، چشمِ خزاں نے جس وقت

آخری بار گلِ تر کی طرف دیکھا تھا

پھر کنارے پہ پہنچنے میں مجھے عمر لگی

میں نے اک بار سمندر کی طرف دیکھا تھا

Friday, 18 March 2022

ہم دشت دل کو نقش سے آباد کر سکیں

 ہم دشتِ دل کو نقش سے آباد کر سکیں

ملتے رہا کرو کہ تمہیں یاد کر سکیں

خود پر تو ایک عمر سے بس چل نہیں رہا

چڑیا خرید لاؤ کہ آزاد کر سکیں

اشکوں میں ہے سمائی ہوئی ایک جل ہری

اے کاش اس پری کو زمیں زاد کر سکیں

Thursday, 3 September 2020

نہیں سمجھے گا یہ خیمہ ہمارا

نہیں سمجھے گا یہ خیمہ ہمارا
ہماری پیاس ہے دریا ہمارا
نہیں ممکن تو آ تقسیم کر لیں
محبت ہی تو ہے ورثہ ہمارا
وہ خود کو پورا کرنا چاہتا ہے
اسے درکار ہے چہرہ ہمارا

Sunday, 23 August 2020

اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں

اگر خوشی میں تجھے گنگناتے لگتے ہیں
تو لوگ شہر سے آنسو بہانے لگتے ہیں
نکل کے آنکھ سے لفظوں میں آنے لگتے ہیں
میاں! یہ اشک ہیں، یونہی ٹھکانے لگتے ہیں
گزر چکے ہیں کسی عکس کی معیت میں
ہم ایسے لوگ جو آئینہ خانے لگتے ہیں

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے
زندگی، آئینہ خانے مں گزر جاتی ہے
شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی روٹھ گیا
اور شب، اس کو منانے میں گزر جاتی ہے
ہر محبت کےلیے دل میں الگ خانہ ہے
ہر محبت اسی خانے میں گزر جاتی ہے

Saturday, 22 August 2020

پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے

پیلا تھا چاند 🌕اور شجر بے لباس تھے
تجھ سے بچھڑ کے گاؤں میں سارے اداس تھے
سوچا تو، تُو "مگن" تھا فقط میری ذات میں
دیکھا تو، کتنے لوگ تِرے آس پاس تھے
جب ہم نہ مل سکے، تو ہمیں ماننا پڑا
بستی کے لوگ کتنے ستارہ✩ شناس تھے

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں
اس کھلے آسمان میں ہم ہیں
آخر کار ہجر ختم ہوا
اور پس ماندگان میں ہم ہیں
کیوں نہ ہو خوفِ انہدامِ دل
اسی خستہ مکان میں ہم ہیں

عجب طرح کے کمال کرنے بھی آ گئے ہیں

عجب طرح کے کمال کرنے بھی آ گئے ہیں
بچھڑ کے اب ماہ و سال کرنے بھی آ گئے ہیں
جو میری باتوں کو مانتا تھا بلا تأمل
سنو اسے اب سوال کرنے بھی آ گئے ہیں
سنا ہے لوگوں سے اب وہ ملتا ہے مسکرا کر
اسے تعلق بحال کرنے بھی آ گئے ہیں

Friday, 21 August 2020

دل کسی خواہش کا اکسایا ہوا

دل کسی خواہش کا اُکسایا ہوا
پھر مچل اٹھا ہے بہلایا ہوا
جا تجھے تیرے حوالے کر دیا
کھینچ لے یہ ہاتھ پھیلایا ہوا
جس طرح ہے خشک پتوں کو ہوا
میرے حصے میں ہے تُو آیا ہوا

مجھے خبر ہے کہ ہونا ہے رائیگاں مجھ کو

یہ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں یہاں وہاں مجھ کو 
تلاش کرتے نہیں اپنے درمیاں مجھ کو 
میں اگلے پچھلے زمانوں سے ہو کے آیا ہوں 
کہیں نظر نہیں آئے ہیں رفتگاں مجھ کو 
وہ جس میں لوٹ کے آتی تھی ایک شہزادی 
ابھی تلک نہیں بھولی وہ داستاں مجھ کو

رنج جو دیدہ نمناک میں دیکھا گیا ہے

رنج جو دیدۂ نمناک میں دیکھا گیا ہے
یہ فقط سینۂ صد چاک میں دیکھا گیا ہے
اس سے آگے ہے میاں منتظروں کی بستی
اک دِیا🪔 جلتا ہوا طاق میں دیکھا گیا ہے
اے جنوں اس کی کہانی بھی سناؤں گا تجھے
یہ جو پیوند مرے چاک میں دیکھا گیا ہے

یاد رکھے گا مرا کون فسانہ مرے دوست

یاد رکھے گا مِرا کون فسانہ مِرے دوست
میں نہ مجنوں ہوں نہ مجنوں کا زمانہ مرے دوست
ہجر انساں کے خد و خال بدل دیتا ہے
کبھی فرصت میں مجھے دیکھنے آنا مرے دوست
شام ڈھلنے سے فقط شام نہیں ڈھلتی ہے
عمر ڈھل جاتی ہے جلدی پلٹ آنا مرے دوست

Sunday, 2 June 2013

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے
 زندگی، آئینہ خانے میں گزر جاتی ہے
 شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی روٹھ گیا
 اور شب اس کو منانے میں گزر جاتی ہے
 ہر محبت کے لئے دل میں الگ خانہ ہے
 ہر محبت اسی خانے میں گزر جاتی ہے