ہم دشتِ دل کو نقش سے آباد کر سکیں
ملتے رہا کرو کہ تمہیں یاد کر سکیں
خود پر تو ایک عمر سے بس چل نہیں رہا
چڑیا خرید لاؤ کہ آزاد کر سکیں
اشکوں میں ہے سمائی ہوئی ایک جل ہری
اے کاش اس پری کو زمیں زاد کر سکیں
ہم دشتِ دل کو نقش سے آباد کر سکیں
ملتے رہا کرو کہ تمہیں یاد کر سکیں
خود پر تو ایک عمر سے بس چل نہیں رہا
چڑیا خرید لاؤ کہ آزاد کر سکیں
اشکوں میں ہے سمائی ہوئی ایک جل ہری
اے کاش اس پری کو زمیں زاد کر سکیں
جاگ کر خواب سے بستر کی طرف دیکھا تھا
اور پھر چرخِ ستمگر کی طرف دیکھا تھا
تُو نے دیکھا تھا وہ پل، چشمِ خزاں نے جس وقت
آخری بار گلِ تر کی طرف دیکھا تھا
پھر کنارے پہ پہنچنے میں مجھے عمر لگی
میں نے اک بار سمندر کی طرف دیکھا تھا
ہم دشتِ دل کو نقش سے آباد کر سکیں
ملتے رہا کرو کہ تمہیں یاد کر سکیں
خود پر تو ایک عمر سے بس چل نہیں رہا
چڑیا خرید لاؤ کہ آزاد کر سکیں
اشکوں میں ہے سمائی ہوئی ایک جل ہری
اے کاش اس پری کو زمیں زاد کر سکیں