Saturday, 22 August 2020

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں
اس کھلے آسمان میں ہم ہیں
آخر کار ہجر ختم ہوا
اور پس ماندگان میں ہم ہیں
کیوں نہ ہو خوفِ انہدامِ دل
اسی خستہ مکان میں ہم ہیں
ہم فقط تیری گفتگو میں نہیں
ہر سخن، ہر زبان میں ہم ہیں
اور کوئی نظر نہیں آتا
اس زمین آسمان میں ہم ہیں
کیا دعا کی قبولیت اشفاق
سب کے وہم و گمان میں ہم ہیں

اشفاق ناصر

No comments:

Post a Comment