Showing posts with label اجمل سلطانپوری. Show all posts
Showing posts with label اجمل سلطانپوری. Show all posts

Wednesday, 6 May 2026

جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا

 جاگ جا اے مُسلماں سویرا ہُوا

دُور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا

صبح ہونے لگی رات ڈھلنے لگی 

بادِ مسحور عالم میں چلنے لگی

قومِ خوابیدہ کروٹ بدلنے لگی 

لے کے انگڑائیاں آنکھ ملنے لگی

Sunday, 25 January 2026

زیر سایۂ گنبد رات کا بسیرا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زیرِ سایۂ گنبد رات کا بسیرا ہے

اور سنہری جالی سے رونما سویرا ہے

جا بجا مدینے میں حاجیوں کا ڈیرا ہے

مصطفٰیؐ کے کوچے میں سائلوں کا پھیرا ہے

رات بھی مدینے کی کتنی خلد منظر ہے

اک ذرا اُجالا ہے، اک ذرا اندھیرا ہے

Wednesday, 3 December 2025

بھیڑ پروانوں کی ہے گنبد خضریٰ کے قریب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بھیڑ پروانوں کی ہے گنبدِ خضریٰ کے قریب

کھِنچ کے بیمار چلے آئے مسیحا کے قریب

ہر کِرن ریش منوّر کی تجلّٰی افروز

لَنْ تَرَانِیْ کا ہے ہالہ رُخِ زیبا کے قریب

ہر نشانِ قدمِ ناز ہے معراج بکف

اوجِ سدرہ سے بُلند عرشِ معلّٰی کے قریب

Thursday, 13 November 2025

باغ فردوس سے کم باغ مدینہ تو نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


باغِ فردوس سے کم باغِ مدینہ تو نہیں

ہاں مگر منکر و نادان نے سمجھا تو نہیں

اُن کو پہچاننا آسان ہے دیکھا تو نہیں

میرے سرکار ہیں جیسے کوئی ایسا تو نہیں

قاسمِ نعمتِ کوثر کو ہے ہر دم یہ خیال

کوئی بھُوکا تو نہیں ہے کوئی پیاسا تو نہیں

Wednesday, 6 November 2024

یاد مدینہ جب آ جائے وہ بھی اتنی رات گئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یادِ مدینہ جب آ جائے، وہ بھی اِتنی رات گئے 

دل‌ کیا کیا تڑپے تڑپائے، وہ بھی اتنی رات گئے

نعتِ نبیؐ کے جھونکے آئے، وہ بھی اِتنی رات گئے 

سانسوں کے سرگم لہرائے، وہ بھی اتنی رات گئے

رات کی اس ڈھلتی بیلا میں‌ کس نے چھیڑا ذکرِ رسولؐ

کس نے آئینے دِکھلائے، وہ بھی اتنی رات گئے 

Wednesday, 2 October 2024

رات اندھیری ہے تنہا کہاں جاؤ گے

 راہ ہے پُر خطر، رہزنوں کا ہے ڈر

رات اندھیری ہے تنہا کہاں جاؤ گے


تازگی، حسن، شوخی، ادا، بانکپن

چھین لے بڑھ کے تم سے کوئی یہ دھن

بات مانا کرو، ضد بری بات ہے

ٹھہرو ٹھہرو ابھی تو بہت رات ہے

Tuesday, 1 October 2024

میں تیرا شاہ جہاں تو میری ممتاز محل

 تاج محل


میں تیرا شاہ جہاں، تو میری ممتاز محل

آ تجھے پیار کی انمول نشانی دے دوں


ہائے یہ ناز، یہ انداز، یہ غمزہ، یہ غرور 

اس نے پامال کیے کتنے شہنشاہوں کے تاج 

نیم باز آنکھوں میں یہ کیف یہ مستی یہ سرور 

پیش کرتے ہیں جسے اہلِ نظر دل کا خراج