جاگ جا اے مُسلماں سویرا ہُوا
دُور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
صبح ہونے لگی رات ڈھلنے لگی
بادِ مسحور عالم میں چلنے لگی
قومِ خوابیدہ کروٹ بدلنے لگی
لے کے انگڑائیاں آنکھ ملنے لگی
دی مؤذن نے مسجد میں جا کر اذاں
کچھ نمازی ہوئے سُوئے مسجد رواں
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
تیرے گُلشن کے ہر پھول کمھلا گئے
زرد پتّے ہوئے نخل مُرجھا گئے
باغ کے سارے سبزے ہَوا کھا گئے
سُوکھ جانے کے بالکل قریب آ گئے
بُلبلیں کہہ رہی ہیں یہ کیا ہو گیا
اِس چمن کا نگہباں کہاں سو گیا
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
آج مسجد تِری دیکھ سنسان ہے
تیرے در پہ ہی شیطان ہے
تجھ میں بُوئے محبت نہ ایمان ہے
خود کو کہتا تو پھر بھی مسلمان ہے
جب تجھے یاد اپنا سبق ہی نہیں
تجھ کو دنیا میں جینے کا حق ہی نہیں
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
دہر سے مٹ گیا ظُلمتوں کا نشاں
مسکرائی سحر لے کے انگڑائیاں
ساکنانِ فلک ہو گئے سب نہاں
جاگ اٹھا خوابِ غفلت سے سارا جہاں
تیرے بستر کے ماتھے پہ آئی شکن
کہہ رہی ہے یہ سورج کی پہلی کرن
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
میں بتا دوں کہ تُو کیوں پریشان ہے
آج کیوں خندہ زن تجھ پہ شیطان ہے
آج خطرے میں کیوں تیرا ایمان ہے
بس یہی اک سبق اے مسلمان ہے
اب تجھے یاد حکمِ پیمبر نہیں
اب تِرے لب پہ اللّٰہ اکبر نہیں
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
تُو نے دریا میں گھوڑوں کو دوڑا دیا
تُو نے خُشکی پہ کشتی کو تیرا دیا
تُو نے جُھوٹے خُداؤں کو ٹُھکرا دیا
پرچمِ دین دنیا میں لہرا دیا
تیرے ہاتھوں کو کسریٰ کا کنگن ملا
دین تو دین دنیا کا بھی دھن ملا
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
مردِ میدان بن اپنے جوہر دکھا
کر بلند اپنے بازو کو مت خوف کھا
گولیوں سے نہ ڈر کھول سینہ ذرا
کام ہمت سے لے آگ میں کود جا
تیری ہمت ہی تلوار بن جائے گی
نارِ نمرود گلزار بن جائے گی
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
اے مری قوم کے نامور شاعرو
عالمو، حافظو، مُفتیو، قاریو
اے ادیبو، فسانہ نگارو سنو
تم جو چاہو حوادث کے رُخ موڑ دو
یہ اُٹھیں، وہ اُٹھیں، ہم اُٹھیں، تم اُٹھو
اٹھ کے اجمل یہ پیغام دو قوم کو
جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا
دور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا
اجمل سلطانپوری
No comments:
Post a Comment