Saturday, 2 May 2026

ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

 ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

مان لی ہار اور کیا کرتے

اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ

اس سے تکرار اور کیا کرتے

پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی

پیشِ دیوار اور کیا کرتے

ہم نے قاتل کو ایک گالی دی

بر سرِ دار اور کیا کرتے

کر دیا پاش پاش آئینہ

اپنا انکار اور کیا کرتے

ہم نے اندھا بنا لیا خود کو

سرِ بازار اور کیا کرتے

نفی کرتے نہ گر ضیا تیری

پھر تِرے یار اور کیا کرتے


ضیاءالرشید

No comments:

Post a Comment