Monday, 11 May 2026

یاں ہنرور بھی خوب ملتے ہیں

 یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں

خار سے گل کے چاک سلتے ہیں

ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے

کارواں کے غبار ملتے ہیں

یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں

بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں

مزاجوں کو سکھاؤ غرق ہونا

جزیرے زیرِ آب مِلتے ہیں

شرط حُسنِ نظر ہی ہے ہانی

شاخِ منظر پہ پھول کھلتے ہیں


ام ہانی

رخسانہ نکہت لاری

No comments:

Post a Comment