یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں
خار سے گل کے چاک سلتے ہیں
ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے
کارواں کے غبار ملتے ہیں
یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں
بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں
مزاجوں کو سکھاؤ غرق ہونا
جزیرے زیرِ آب مِلتے ہیں
شرط حُسنِ نظر ہی ہے ہانی
شاخِ منظر پہ پھول کھلتے ہیں
ام ہانی
رخسانہ نکہت لاری
No comments:
Post a Comment