Monday, 11 May 2026

دوستی کو معتبر میں نے کیا

 تکنیک


دوستی کو معتبر میں نے کیا

حُسن کو زیرِ نظر میں نے کیا

کس لیے بھیجا گیا میں دہر میں

جرم کیا اے کوزہ گر میں نے کیا؟

جو جہاں میں بے وفا مشہور ہے

اس کو اپنا چارہ گر میں نے کیا

جو جفاؤں کا رہا خوگر صدا

ہے اسی کو ہم سفر میں نے کیا

بے فروغ و بے اثر تھی دہر میں

شاعری کو پر اثر میں نے کیا

زندگی زندہ دلی میں کٹ گئی

دشت و صحرا کو نگر میں نے کیا

میں نہیں بیٹھا کہیں آرام سے

خود  کو بھی ہے در بدر میں نے کیا

درد و رنج و غم جہاں بستے رہے

اس نگر کو رہگزر میں نے کیا

جب دکھائی زندگی نے کج روی

اس سے ناقد پھر مفر میں نے کیا


شبیر ناقد

No comments:

Post a Comment