زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا
بھُولنا چاہا تو وہ حد سے سِوا یاد آیا
پھر خیالوں کی ہری شاخ پہ کلیاں مہکیں
پھر وہی شوخ،۔ وہی جانِ وفا یاد آیا
میں نے آئینہ اُٹھایا تھا کہ سب چیخ اُٹھے
عکس تو عکس ہی تھے لوگوں کو کیا یاد آیا
جب کبھی پاؤں میں ہم نے بھی لگائی مہندی
دشتِ پُر خار کا ہر آبلہ پا یاد آیا
حال یہ ہے کہ عیاں جب کوئی شیشہ ٹوٹا
اپنا دل، اور تِرا پیمانِ وفا یاد آیا
رشیدہ عیاں
No comments:
Post a Comment