Thursday, 7 May 2026

موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

 موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس

عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے

نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس

اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں

کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس

لاغری سے مِرے مرنے کا اسے خوف ہوا

رک گیا دست جنوں میرے گریباں کے پاس

منزل عشق میں دیوانہ تِرا بیٹھا ہے

پاؤں پھیلائے ہوئے خارِ مغیلاں کے پاس

میری بھی شوقِ اسیری کی نہیں حد کوئی

قید سے چھوٹ کے بیٹھا درِ زِنداں کے پاس

دل نے زلفوں سے کہا اتنا مناسب ہے خیال

آتا ہے کوئی پریشاں بھی پریشاں کے پاس

ان کی خلوت میں گیا میں تو عنایت یہ ہوئی

وہ بھی شرمائے ہوئے بیٹھے ہیں مہماں کے پاس

اپنے زانو پہ شب وصل رکھا سر میرا

دل بھی خوش ہے کہ میں ہوں گیسوئے جاناں کے پاس

قدر انداز ادھر دیکھ کشش اتنی ہے

خود ہی دل آئے گا کھینچ کر تِرے پیکاں کے پاس

دل حسینوں نے لیا جان بھی لے لی میری

اب تو کچھ بھی نہ رہا بے سر و ساماں کے پاس

پنج تن مل گئے، جنت میں چلو تم بھی شفیق

باتوں باتوں میں پہنچ جاؤ گے رضواں کے پاس


شفیق لکھنوی

سید احمد حسین

No comments:

Post a Comment