موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس
ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس
عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے
نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس
اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں
کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس
لاغری سے مِرے مرنے کا اسے خوف ہوا
رک گیا دست جنوں میرے گریباں کے پاس
منزل عشق میں دیوانہ تِرا بیٹھا ہے
پاؤں پھیلائے ہوئے خارِ مغیلاں کے پاس
میری بھی شوقِ اسیری کی نہیں حد کوئی
قید سے چھوٹ کے بیٹھا درِ زِنداں کے پاس
دل نے زلفوں سے کہا اتنا مناسب ہے خیال
آتا ہے کوئی پریشاں بھی پریشاں کے پاس
ان کی خلوت میں گیا میں تو عنایت یہ ہوئی
وہ بھی شرمائے ہوئے بیٹھے ہیں مہماں کے پاس
اپنے زانو پہ شب وصل رکھا سر میرا
دل بھی خوش ہے کہ میں ہوں گیسوئے جاناں کے پاس
قدر انداز ادھر دیکھ کشش اتنی ہے
خود ہی دل آئے گا کھینچ کر تِرے پیکاں کے پاس
دل حسینوں نے لیا جان بھی لے لی میری
اب تو کچھ بھی نہ رہا بے سر و ساماں کے پاس
پنج تن مل گئے، جنت میں چلو تم بھی شفیق
باتوں باتوں میں پہنچ جاؤ گے رضواں کے پاس
شفیق لکھنوی
سید احمد حسین
No comments:
Post a Comment