Sunday, 10 May 2026

غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے

 اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے

میں جو چاہوں بھی تو رویا نہیں جاتا مجھ سے

مبتلا ہو مرا ہمسایہ کسی غم میں اگر

جاگتا رہتا ہوں سویا نہیں جاتا مجھ سے

حادثوں میں بھی رہی ہے مرے ہونٹوں پہ ہنسی

غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے

قصۂ ظلم میں کیسے لکھوں کب تک لکھوں

اب قلم خوں میں ڈبویا نہیں جاتا مجھ سے

ایک جگنو بھی تو سجتا نہیں پلکوں پہ شرر

ایک موتی بھی پرویا نہیں جاتا مجھ سے


انعام شرر ایوبی

No comments:

Post a Comment