خط کی ترجمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
آخری نشانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
شاعروں نے بولا ہے، تازگی اذیت ہے
یہ غزل پرانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
کیوں تمہارے کہنے پر وہ غزل سناؤں میں
تم نے میری مانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
تذکرہ ہے فرصت کا اِس غزل کے شعروں میں
وصل ناگہانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
حُسن آدمیت کی جھونپڑی میں رہتا ہے
عشق جاودانی ہے یہ غزل سناؤں گا
چاند اور ستارے ہیں اٌس غزل کے ہالے میں
کون آسمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
سامنے وہ آئے گی کھل کے پھر سماعت سے
آگ ہے یا پانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
دیکھ کر لیا آخر حافظے کو قابو میں
یاد اب کہانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
سینکڑوں برس کا ہے ایک دن بڑھاپے کا
مختصر جوانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
واعظوں کی محفل میں کُفر کی صدارت ہے
آخرت بچانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
شہزاد صابر
No comments:
Post a Comment