Wednesday, 6 May 2026

فراق یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں

 فراقِ یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں

جدھر لگی ہے ہمیں چوٹ اُدھر کو دیکھتے ہیں

جفا کا شوق ہے کہتے ہیں ناز کی بھی ہیں

وہ پہلے تیغ کو اور پھر کمر کو دیکھتے ہیں

کُھلا ہے منہ جو لحد میں کُھلا ہی رہنے دو

جگہ نئی ہے مُسافر ہیں، گھر کو دیکھتے ہیں

ہمارے درد کو جاتا ہے "لا دوا" کہہ کر

نگاہِ یاس سے ہم چارہ گر کو دیکھتے ہیں

کسی میں تو نظر آ جائے گا تِرا جلوہ

اسی خیال سے ہم ہر بشر کو دیکھتے ہیں

یہاں تک اپنی طبیعت ہے بدگُمان ان سے

کہ ان کی بزم میں ہر اک کی نظر کو دیکھتے ہیں

جوانی آتے ہی ان کو غرورِ حُسن آیا

کچھ اب پھری ہوئی ان کی نظر کو دیکھتے ہیں

یہ کیوں زبان سے ارشاد ہو گا خط کا جواب

کہ نامہ دیکھ کے اب نامہ بر کو دیکھتے ہیں

غضب ہے دیکھ کے غیروں کو وہ کنکھیوں سے

یہ پوچھتے ہیں کہو! ہم کدھر کو دیکھتے ہیں

ہر اک سخن میں نہاں ہیں سو صورتِ معنی

ہم ان کے حسن کے حسنِ اثر کو دیکھتے ہیں

ستانے کو مجھے کہتے ہیں غیر کی نظریں

یہ وہ نظر ہیں کہ ہم جس کی نظر کو دیکھتے ہیں

تسلیاں شبِ فُرقت میں کٹیں گے آخر کار

ابھی ترقئ سوزِ جگر کو دیکھتے ہیں

پڑے نہ لچک کہیں راہ میں بوقتِ خرام

سنبھل سنبھل کے وہ اپنی کمر کو دیکھتے ہیں

وہ خود ہی ہو گئے آزاد طالبِ دیدار

ہم آہ آہ کے حُسنِ اثر کو دیکھتے ہیں


ابوالکلام آزاد

No comments:

Post a Comment